لیسک سرجری کے بغیر نظر کا اعلاج، امریکی ماہرین نے نئی تکنیک پیش کر دی

واشنگٹن، 20 اگست، 2025 (وام)--ماہرینِ تحقیق نے بینائی کی درستگی کے لیے ایک ایسی نئی تکنیک متعارف کرائی ہے جو لیسک سرجری کے متبادل کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ اس طریقہ کار کو الیکٹرو مکینیکل ری شیپنگ (ای ایم آر) کہا جا رہا ہے، جس میں لیزر کے بجائے برقی رو اور پلاٹینم کانٹیکٹ لینس کے ذریعے قرنیہ (Cornea) کی شکل بدلی جاتی ہے۔

یہ تحقیق امریکی کیمیکل سوسائٹی کی ایک کانفرنس میں پیش کی گئی، جس کی قیادت آکسیڈینٹل کالج کے پروفیسر مائیکل ہل نے کی۔ ان کے مطابق، ای ایم آر کے تحت کولیجن والے بافتوں (tissues) میں پی ایچ کی سطح کو اس طرح تبدیل کیا جاتا ہے کہ وہ عارضی طور پر نرم ہو جاتے ہیں اور ان کی شکل دی جا سکتی ہے۔

تحقیقی ٹیم نے خرگوشوں پر تجربات کیے جن میں درست قرنیہ کے ڈیزائن پر مبنی پلاٹینم کانٹیکٹ لینس استعمال کیا گیا۔ ایک منٹ کے اندر، جو لیسک سرجری کے دورانیے کے برابر ہے، خرگوشوں کا قرنیہ کانٹیکٹ لینس کے مطابق ڈھل گیا۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کم مراحل پر مشتمل ہے اور اس میں کسی قسم کی چیرا لگانے کی ضرورت نہیں۔

نتائج کے مطابق، بارہ میں سے دس آنکھوں میں قرنیہ کی شکل کامیابی سے بہتر بنائی گئی۔ یہ طریقہ کار خاص طور پر نزدیک بینی (Myopia) کے علاج میں مؤثر ہو سکتا ہے، جب کہ کیمیائی اثرات کے باعث قرنیہ کی دھندلاہٹ جیسی حالتوں میں بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، جن کے علاج کے لیے عموماً قرنیہ کی پیوندکاری ضروری ہوتی ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، ایروین کے پروفیسر برائن وونگ نے بتایا کہ یہ اثر دراصل بافتوں کی تبدیلی پر تحقیق کے دوران حادثاتی طور پر دریافت ہوا۔ پروفیسر ہل کے مطابق مزید تفصیلی تجربات جانوروں پر درکار ہیں، مگر امکان ہے کہ یہ طریقہ موجودہ علاج کے مقابلے میں زیادہ سستا اور حتیٰ کہ قابلِ واپسی بھی ہو سکتا ہے۔

پروفیسر ہل نے اس موقع پر کہا کہ کلینکل سطح تک پہنچنے میں ابھی وقت لگے گا، ’’لیکن اگر یہ ممکن ہوا تو یہ تکنیک وسیع پیمانے پر استعمال کے قابل، نہایت کم خرچ اور ممکنہ طور پر قابلِ واپسی ہوگی۔‘‘