امارات میں خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے جامع فریم ورک تشکیل

دبئی، 20 اگست 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ایک جامع فریم ورک تیار کیا ہے جس کا مقصد درپیش چیلنجز سے نمٹنا، مواقع کو وسعت دینا اور مختلف شعبوں میں خواتین کو قیادت کے لیے تیار کرنا ہے۔ ان اقدامات سے ملک کی علاقائی اور عالمی سطح پر مسابقت مزید مستحکم ہوئی ہے۔

اس سلسلے میں امارات جینڈر بیلنس کونسل اور دبئی ویمن اسٹیبلشمنٹ جیسے قومی اداروں نے خواتین کی قیادت سازی کی صلاحیتیں بڑھانے اور انہیں سرکاری و نجی شعبے میں اعلیٰ عہدوں تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان کوششوں میں معروف بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون بھی شامل ہے۔

اماراتی خبر ایجنسی سے گفتگو میں جینڈر بیلنس کونسل کی سیکریٹری جنرل، موزہ محمد الغویس السویدی نے کہا کہ کونسل نجی شعبے میں خواتین کی شمولیت اور ان کی قیادت میں نمائندگی بڑھانے کے لیے اپنی کوششوں میں مزید تیزی لا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ ہدف ایسے منصوبوں اور حکمتِ عملیوں کے ذریعے حاصل کیا جا رہا ہے جن سے متوازن اور شمولیتی ماحول پیدا ہو، اور یہ کام سرکاری و نجی دونوں شعبوں کے اسٹریٹجک شراکت داروں کے تعاون سے کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والی کئی قومی اور بین الاقوامی کمپنیوں نے ’’ایس ڈی جی 5 پلیج‘‘ پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد نجی شعبے میں خواتین کی قیادت کو تیز کرنا ہے۔ ان کمپنیوں نے رضاکارانہ طور پر یہ عہد کیا ہے کہ وہ درمیانی اور اعلیٰ انتظامی عہدوں پر پہلی گروپ کے لیے 2025 تک اور دوسرے گروپ کے لیے 2028 تک خواتین کی نمائندگی کو کم از کم 30 فیصد تک بڑھائیں گی۔

کونسل کی اسٹریٹجی 2026 کا مقصد تمام شعبوں میں صنفی فرق کو مزید کم کرنا، عالمی مسابقتی اشاریوں میں امارات کی درجہ بندی کو بہتر بنانا، فیصلہ سازی کے مناصب میں صنفی توازن کو فروغ دینا اور امارات کو قانون سازی کے میدان میں صنفی توازن کی مثال کے طور پر اجاگر کرنا ہے۔ اسی تناظر میں، متحدہ عرب امارات اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے جاری کردہ 2025 جینڈر ان ایکویلٹی انڈیکس میں علاقائی سطح پر پہلے اور عالمی سطح پر 13ویں نمبر پر رہا۔

اسی موقع پر نعیمہ اہلی، سی ای او دبئی ویمن اسٹیبلشمنٹ نے کہا کہ اماراتی خواتین کی قیادت کو فروغ دینا ادارے کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق ادارہ ایسے جدید تربیتی پروگرام ترتیب دیتا اور نافذ کرتا رہا ہے جن کے ذریعے خواتین کو قیادت کی مہارتیں سکھائی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں بین الاقوامی اداروں میں اعلیٰ کردار ادا کرنے کے لیے بھی تیار کیا جا رہا ہے، اور اس مقصد کے لیے دنیا کی معروف یونیورسٹیوں اور اداروں کے تعاون سے خصوصی پروگرام تیار کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام نہ صرف خواتین کو جدید قیادتی علم اور مہارت فراہم کرتے ہیں بلکہ بدلتے ہوئے حالات میں قیادت کے تقاضوں کو سمجھنے اور فیصلہ سازی میں اعتماد بڑھانے میں بھی مدد دیتے ہیں۔