یونیورسٹیوں میں عملی تربیت کیلئے نیا ضابطہ متعارف

ابوظہبی، 21 اگست، 2025 (وام)-- وزارتِ اعلیٰ تعلیم و سائنسی تحقیق نے وزیرِاعلیٰ سطحی قرارداد نمبر 173 جاری کی ہے جس کے تحت ملک کی تمام اعلیٰ تعلیمی درسگاہوں میں عملی تربیتی پروگرامز کیلئے ایک متحدہ ضابطہ متعارف کرایا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اعلیٰ تعلیم کے نتائج کو افرادی قوت کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا اور تربیتی پروگرامز کے معیار و مؤثریت کو یقینی بنانا ہے۔

وزارت کے مطابق نیا فیصلہ ایک جامع نظامِ حکمرانی فراہم کرتا ہے جو عملی تربیت کو قومی ترقیاتی ترجیحات سے جوڑتے ہوئے شفافیت، جواب دہی اور تعلیمی معیار کو بہتر بنائے گا۔

وزارت کے قائم مقام سیکریٹری ڈاکٹر محمد المعلا کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اس بات کا عکاس ہے کہ وزارت عملی تربیت کو آگے بڑھانے کیلئے پرعزم ہے تاکہ فارغ التحصیل نوجوانوں کو اُن شعبوں کی مہارتیں حاصل ہوں جو ملکی معیشت کیلئے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق عملی تربیت، نصابی تعلیم کو عملی دنیا سے جوڑ کر طلبہ کو ایسی صلاحیتیں فراہم کرتی ہے جو انہیں مستقبل میں کامیاب اور جدت طراز بننے کے قابل بنائیں گی۔

ڈاکٹر المعلا نے مزید کہا کہ نیا فریم ورک سرکاری و نجی اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دے گا، تاکہ طلبہ کو تجربہ کار ماہرین کی زیر نگرانی معیاری، محفوظ اور پُر اثر تربیت مل سکے۔ ان کے بقول مؤثر نگرانی کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ طلبہ حقیقی معنوں میں ایسی مہارتیں حاصل کریں جو ملک کی پائیدار ترقی میں کردار ادا کرسکیں۔

قرارداد کے تحت اعلیٰ تعلیمی اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ عملی تربیت کے نظام کو مضبوط بنائیں، تربیتی اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کریں، طلبہ کی ضروریات اور ادارہ جاتی اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے تربیتی ماحول فراہم کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ نگران عملہ اہل، تجربہ کار اور کارکردگی جانچنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ادارے واضح تربیتی منصوبے تیار کریں، تربیتی اداروں کے ساتھ باضابطہ معاہدے کریں، طلبہ کی کارکردگی کو درمیانی اور آخری جانچ کے ذریعے پرکھیں اور موقع پر جا کر معائنے بھی کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ مکمل ریکارڈ رکھنے، تفصیلی رپورٹس جمع کرانے اور سخت نگرانی کے نظام نافذ کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔

یہ فیصلہ متحدہ عرب امارات کے اُس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت ملک کو ایک مسابقتی، اختراع پر مبنی اور علم دوست معیشت میں تبدیل کرنا ہے۔ حکام کے مطابق اس فریم ورک کے ذریعے گریجویٹس نہ صرف پیشہ ورانہ میدان میں مہارت حاصل کریں گے بلکہ علاقائی و بین الاقوامی سطح پر بھی کامیابی کے ساتھ مقابلہ کر سکیں گے۔