پانی کم پینے والے افراد میں ذہنی دباؤ کا ہارمون زیادہ، نئی تحقیق کا انکشاف

لندن، 22 اگست، 2025 (وام)--برطانیہ میں کی گئی ایک تازہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ مناسب مقدار میں پانی نہ پینے والے افراد، ذہنی دباؤ کی صورت میں زیادہ شدید حیاتیاتی ردِعمل ظاہر کرتے ہیں۔

تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو افراد عادتاً کم پانی پیتے ہیں، ان کے جسم میں دباؤ کی صورت میں ’کورٹی سول‘ نامی ہارمون کی مقدار زیادہ خارج ہوتی ہے، حالانکہ وہ پیاس کی شدت کو ان افراد سے زیادہ محسوس نہیں کرتے جو روزانہ پانی کی تجویز کردہ مقدار پوری کرتے ہیں۔

یہ تحقیق لیورپول جان مورز یونیورسٹی کے ماہرین کی زیرِ قیادت کی گئی، جس میں ایسے 32 افراد شامل کیے گئے۔

ان میں 16 ایسے رضاکار تھے جو روزانہ 1.5 لیٹر سے کم پانی پیتے تھے، جبکہ باقی 16 افراد وہ تھے جو یومیہ پانی کی تجویز کردہ مقدار پوری کرتے تھے۔

ماہرین کے مطابق، پانی کی کمی کے باعث جسم دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے زیادہ مقدار میں کورٹی سول خارج کرتا ہے، جو طویل مدتی بنیاد پر دل، ذہنی صحت اور مدافعتی نظام پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔

تحقیق میں یورپی فوڈ سیفٹی اتھارٹی (EFSA) کی گائیڈ لائنز کو بنیاد بنایا گیا، جس کے مطابق مردوں کو روزانہ 2.5 لیٹر اور خواتین کو 2 لیٹر پانی پینا چاہیے۔

برطانیہ کی ‘Eatwell Guide’ کے مطابق، بالغ افراد کو روزانہ 6 سے 8 گلاس یا تقریباً 1.5 سے 2 لیٹر پانی پینا تجویز کیا گیا ہے۔ تاہم، گرمی، جسمانی مشقت، بیماری، حمل یا دودھ پلانے کی صورت میں یہ مقدار مزید بڑھ سکتی ہے۔

ماہرین نے تجویز دی ہے کہ ذہنی دباؤ کے دوران پانی کی بوتل کو اپنے قریب رکھنا نہ صرف وقتی ریلیف کا باعث بن سکتا ہے بلکہ طویل مدتی صحت کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔