امارات کے سرکاری اسکولوں میں نئے تعلیمی سال سے مصنوعی ذہانت بطور مضمون شامل

ابوظہبی، 23 اگست 2025 (وام)--دنیا بھر میں تعلیمی شعبہ تیزی سے بدل رہا ہے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) اب نصاب کا لازمی حصہ بنتی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ تعلیمی سال 2025-2026 سے ملک کے تمام سرکاری اسکولوں میں کنڈرگارٹن سے گریڈ 12 تک مصنوعی ذہانت کو بطور باقاعدہ مضمون پڑھایا جائے گا۔

وزارتِ تعلیم کے مطابق اس نصاب کا مقصد طلبہ کو مصنوعی ذہانت کے اصولوں سے روشناس کرانا اور انہیں روزمرہ زندگی میں لاگو کرنے کی صلاحیت دینا ہے۔ یہ اقدام ملک کے اس وژن کے عین مطابق ہے جس کے تحت نئی نسل کو عالمی تبدیلیوں کے مطابق ڈھالنا اور تخلیقی حل نکالنے کے قابل بنانا مقصود ہے۔

وزارت نے بتایا کہ اس نصاب کی تدریس کے لیے تقریباً ایک ہزار اساتذہ تعینات کیے جائیں گے جو مختلف تعلیمی درجات میں اسے پڑھائیں گے تاکہ ہر سطح پر جامع کوریج یقینی بنائی جا سکے۔

مصنوعی ذہانت کا یہ نصاب سات کلیدی شعبوں پر مشتمل ہے۔ ان میں بنیادی تصورات، ڈیٹا اور الگورتھمز، سافٹ ویئر کے استعمال اور اخلاقی آگاہی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نصاب میں عملی اطلاقات، اختراع اور منصوبہ سازی، اور آخر میں پالیسی اور کمیونٹی میں شمولیت جیسے اہم پہلو بھی شامل کیے گئے ہیں۔

یہ نصاب مختلف عمروں کے طلبہ کی ذہنی و تدریسی ضروریات کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے، تاکہ مرحلہ وار علم اور مہارتوں کو بڑھایا جا سکے۔ اس اقدام کے ساتھ ہی یو اے ای خود کو ان ممالک کی صف میں شامل کر رہا ہے جو دنیا میں سب سے پہلے اسکولی سطح پر مصنوعی ذہانت کو بطور علیحدہ مضمون پڑھا رہے ہیں۔

نیا تعلیمی سال پیر 25 اگست 2025 سے ملک بھر میں شروع ہوگا، جس کے ساتھ کئی اہم اپ ڈیٹس بھی متعارف کروائی جا رہی ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں وہ لازمی ہدایات ہیں جن کے مطابق نجی اسکولوں کے کنڈرگارٹن مرحلے میں عربی زبان، اسلامی تعلیم اور سماجی تصورات کی تدریس لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد کم عمری ہی سے بچوں میں قومی اقدار کو راسخ کرنا ہے تاکہ ایک ایسی نسل پروان چڑھے جو اپنی قومی شناخت میں جڑی ہوئی، مادری زبان میں ماہر اور خاندانی و معاشرتی تصورات سے آگاہ ہو۔

وزارتِ تعلیم نے ایک نیا معیاری اہلیت ٹیسٹ بھی متعارف کرایا ہے جو گریڈ 4 سے 11 تک کے طلبہ کے لیے ہوگا۔ اس ٹیسٹ کا مقصد طلبہ کی بنیادی مہارتوں کو جانچنا اور کمزوریوں کی نشاندہی کرنا ہے۔

ابتدائی مرحلے میں یہ ٹیسٹ 26 ہزار طلبہ پر مشتمل ہوگا اور اس میں تین مضامین — عربی، ریاضی اور انگریزی — شامل ہوں گے۔ اس ٹیسٹ کے نتائج سے نہ صرف اساتذہ کو طلبہ کی کمزوریوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی بلکہ وزارتِ تعلیم کو بھی ایک جامع جائزہ حاصل ہوگا کہ طلبہ کی ان اہم مضامین میں مجموعی سطح کیا ہے۔