متحدہ عرب امارات میں غیر محفوظ وائی فائی نیٹ ورکس کے ذریعے 12 ہزار سے زائد سائبر حملے

ابوظہبی، 24 اگست 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کی سائبر سیکیورٹی کونسل نے خبردار کیا ہے کہ عوامی مقامات پر دستیاب غیر محفوظ اور غیر مصدقہ وائی فائی نیٹ ورکس کے استعمال سے سنگین سائبر خطرات جنم لے رہے ہیں، جن کے نتیجے میں رواں سال کے آغاز سے اب تک 12,000 سے زائد خلاف ورزیاں ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔

کونسل کے مطابق ان حملوں کی شرح ملک میں رپورٹ ہونے والے کل سائبر حملوں کا تقریباً 35 فیصد ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہیکرز اور سائبر مجرموں نے اوپن وائی فائی نیٹ ورکس کو اپنا بنیادی ہتھیار بنا لیا ہے، جہاں سے وہ پاس ورڈز، بینکنگ معلومات اور دیگر ذاتی کوائف چرا سکتے ہیں۔

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ عوام کو مفت وائی فائی نیٹ ورکس سے جُڑتے وقت خاص احتیاط برتنی چاہیے، بالخصوص حساس لین دین سے گریز، ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن کا استعمال، اور قابلِ اعتماد سیکیورٹی ٹولز کا استعمال ضروری قرار دیا گیا ہے۔

کونسل نے واضح کیا کہ اوپن وائی فائی نیٹ ورکس، خصوصاً کافی شاپس، ایئرپورٹس اور شاپنگ سینٹرز میں موجود نیٹ ورکس، صارفین کی ذاتی اور مالی معلومات کے افشا کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان نیٹ ورکس کو اکثر کسی حفاظتی نظام کے بغیر چلایا جاتا ہے، جو انہیں سائبر حملہ آوروں کے لیے آسان ہدف بنا دیتا ہے۔

ڈاکٹر محمد الکویتی، جو کہ یو اے ای حکومت کے سائبر سیکیورٹی چیف ہیں، نے وام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی قیادت کی ہدایات کے تحت ملک ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول کے قیام کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے تاکہ بڑھتے ہوئے سائبر خطرات سے نمٹا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کاوشوں کا مقصد نہ صرف ڈیجیٹل ایکو سسٹم پر عوامی اعتماد کو مستحکم کرنا ہے بلکہ سائبر سیکیورٹی کی ثقافت کو فروغ دینا اور عوام میں محفوظ ڈیجیٹل رویوں کے بارے میں شعور اجاگر کرنا بھی ہے۔

کونسل کے مطابق متعدد صارفین یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مفت وائی فائی کے ذریعے جُڑنے والے نیٹ ورکس کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ نیٹ ورکس بظاہر تیزرفتار اور مفت ہونے کے باعث پرکشش تو ہوتے ہیں، لیکن ڈیٹا چوری، جعلی ویب سائٹس پر ری ڈائریکٹ کرنے، کالز سننے یا میلویئر انسٹال کرنے جیسے حملوں کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔

کونسل نے صارفین اور اداروں کو مشورہ دیا کہ وہ درج ذیل تین بنیادی حفاظتی اقدامات اختیار کریں تاکہ اوپن نیٹ ورکس پر محفوظ انداز میں انٹرنیٹ استعمال کر سکیں:

۱۔ قابلِ اعتماد VPN ایپلی کیشن کا استعمال، جو انٹرنیٹ کنکشن کو انکرپٹ کرتی ہے اور غیر مجاز فریقین کے لیے ڈیٹا تک رسائی مشکل بناتی ہے۔

۲۔ براؤزر میں ’سیف براؤزنگ‘ فیچر کو فعال کیا جائے تاکہ مشتبہ ویب سائٹس تک رسائی روکی جا سکے۔

۳۔ اوپن نیٹ ورک استعمال کرتے ہوئے بینک اکاؤنٹس یا ذاتی ای میلز جیسے حساس اکاؤنٹس میں لاگ اِن کرنے سے گریز کیا جائے۔

کونسل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ سائبر جرائم پیشہ افراد ان اوپن نیٹ ورکس کا استعمال نہ صرف ڈیٹا چوری بلکہ جاسوسی سافٹ ویئر انسٹال کرنے اور صارف کے علم کے بغیر کالز سننے جیسے مقاصد کے لیے بھی کر سکتے ہیں۔

سائبر سیکیورٹی کونسل کی آگاہی مہم "سائبر پلس" رواں سال مسلسل دوسرے سال بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری ہے، جس کا مقصد عوامی سطح پر سائبر آگاہی کو فروغ دینا اور محفوظ ڈیجیٹل ماحول تشکیل دینا ہے۔ یہ مہم قومی وژن کا حصہ ہے جو ڈیجیٹل دنیا میں اعتماد، تحفظ اور آگاہی کی بنیاد کو مستحکم بنانے کے لیے جاری ہے۔