دبئی، 26 اگست 2025 (وام)--دبئی الیکٹرسٹی اینڈ واٹر اتھارٹی (دیوا) کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او سعید محمد الطایر نے اعلان کیا ہے کہ ادارے کے گرین ہائیڈروجن پروجیکٹ نے مئی 2021 میں آغاز سے اب تک 100 ٹن سے زیادہ گرین ہائیڈروجن تیار کر لی ہے۔ اس پیداوار کا بڑا حصہ ہائیڈروجن گیس انجن کے ذریعے 1.15 گیگا واٹ آور سے زیادہ صاف بجلی پیدا کرنے میں استعمال ہوا، جس سے 515 ٹن سے زائد کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی آئی۔
اس کے علاوہ 11 ٹن سے زائد ہائیڈروجن این او سی کو فراہم کی گئی، جو ایکسپو 2020 دبئی میں "سروس اسٹیشن آف دی فیوچر" پر ہائیڈروجن گاڑیوں کے ایندھن کے طور پر اور صنعتی مقاصد کے لیے استعمال ہوئی۔ سعید الطایر نے کہا کہ یہ منصوبہ متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کے وژن کی عملی عکاسی ہے، جس کا مقصد ہائیڈروجن کے میدان میں ملک کے مسابقتی فوائد کو مزید مستحکم بنانا ہے۔
یہ منصوبہ قومی ہائیڈروجن حکمت عملی، یو اے ای نیٹ زیرو 2050 اسٹریٹجی، دبئی کلین انرجی اسٹریٹجی 2050 اور دبئی نیٹ زیرو کاربن ایمیشن اسٹریٹجی 2050 کے اہداف کو بھی تقویت دیتا ہے، جن کے تحت 2050 تک 100 فیصد توانائی صاف ذرائع سے فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ مزید برآں یہ منصوبہ دبئی گرین موبلٹی اسٹریٹجی 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد پائیدار ٹرانسپورٹ کے فروغ کے ذریعے فضائی معیار کو بہتر بنانا اور گرین ہاؤس گیسز میں کمی لانا ہے۔
الطایر کے مطابق گرین ہائیڈروجن پروجیکٹ نے نہ صرف دبئی بلکہ پورے یو اے ای کی مسابقتی حیثیت کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے۔ گرین ہائیڈروجن رپورٹ 2024 (ایلوریز اینڈ مارسال) کے مطابق یو اے ای اس وقت گرین ہائیڈروجن کی مسابقت میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔
یہ منصوبہ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے، جس میں شمسی توانائی سے گرین ہائیڈروجن تیار کی جا رہی ہے۔ ایکسپو 2020 دبئی اور سیمنز انرجی کے تعاون سے شروع کیے گئے اس پروجیکٹ میں فی گھنٹہ 20 کلوگرام ہائیڈروجن تیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے، جب کہ اس کا گیس ٹینک 12 گھنٹے تک کی پیداوار ذخیرہ کر سکتا ہے۔ یہ ذخیرہ شدہ ہائیڈروجن رات کے وقت تقریباً 300 کلو واٹ بجلی فراہم کرنے والے ہائیڈروجن گیس موٹر کے ذریعے استعمال کی جا سکتی ہے۔
اس منصوبے کو مستقبل میں توانائی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبوں میں ہائیڈروجن کے مزید استعمالات کے لیے بھی موزوں انداز میں تیار کیا گیا ہے۔