ادنوک اور انڈین آئل کے درمیان ایل این جی کی طویل مدتی سپلائی کا معاہدہ

ابوظہبی، 27 اگست، 2025 (وام)--ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ادنوک) نے بھارت کی سب سے بڑی توانائی کمپنی انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ کے ساتھ 15 سالہ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت سالانہ دس لاکھ ٹن مائع قدرتی گیس (ایل این جی) فراہم کی جائے گی۔ یہ گیس بنیادی طور پر ادنوک کے کم کاربن منصوبے "رویس ایل این جی" سے حاصل ہوگی۔

یہ معاہدہ اس ابتدائی ہیڈز آف ایگریمنٹ کو باضابطہ شکل دیتا ہے جو پہلے طے پایا تھا اور یہ ادنوک کے عالمی دائرہ کار خاص طور پر ایشیا کی بلند طلب رکھنے والی ایل این جی مارکیٹ میں میں توسیع کی علامت ہے۔ اس سے کمپنی کی حیثیت ایک قابلِ اعتماد عالمی سپلائر کے طور پر مزید مستحکم ہو گئی ہے۔

معاہدے کے تحت ایل این جی کارگو بھارت کی کسی بھی بندرگاہ پر فراہم کیا جا سکے گا، جو ملک کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اور توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے میں مددگار ہوگا۔

رپورٹس کے مطابق، 2029 تک انڈین آئل، ادنوک کی سب سے بڑی ایل این جی خریدار بن جائے گی، جس کے لیے سالانہ 22 لاکھ ٹن گیس فراہم کی جائے گی۔ اس میں 12 لاکھ ٹن داس آئی لینڈ آپریشنز سے اور 10 لاکھ ٹن رویس منصوبے سے شامل ہوں گے۔

اس موقع پر ادنوک کے سینئر نائب صدر برائے مارکیٹنگ، راشد خلفان المزروئی نے کہا کہ انڈین آئل کے ساتھ یہ طویل مدتی معاہدہ امارات اور بھارت کے درمیان توانائی تعلقات کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق، رویس ایل این جی منصوبہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے زیادہ کم کاربن گیس فراہم کرے گا، جو صنعتوں کو توانائی دینے اور گھروں کو روشن رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

رویس ایل این جی پراجیکٹ اس وقت ابوظہبی کے رویس انڈسٹریل سٹی میں تعمیر کے مراحل میں ہے اور 2028 میں کمرشل آپریشنز شروع کرنے کی توقع ہے۔ منصوبے کی کل پیداواری صلاحیت 96 لاکھ ٹن سالانہ ہے جس میں سے 80 لاکھ ٹن پہلے ہی مختلف بین الاقوامی صارفین کو طویل المدتی معاہدوں کے تحت مختص کر دی گئی ہے۔ یہ پیش رفت عالمی سطح پر ادنوک کی ایل این جی کی طلب کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ معاہدہ 2022 میں متحدہ عرب امارات اور بھارت کے درمیان دستخط ہونے والے جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سیپا) کی کامیابیوں کو بھی اجاگر کرتا ہے، جس نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور توانائی کے تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔

رویس پلانٹ مشرقِ وسطیٰ کا پہلا ایسا ایل این جی منصوبہ ہوگا جو صاف توانائی پر چلایا جائے گا، جس سے یہ دنیا کے کم ترین کاربن اخراج والے ایل این جی پلانٹس میں شمار ہوگا۔ اس منصوبے میں جدید ٹیکنالوجی، بشمول مصنوعی ذہانت (AI)، استعمال کی جائے گی تاکہ سکیورٹی، استعداد اور پائیداری کو بہتر بنایا جا سکے۔

ادنوک گیس نے نومبر 2024 میں اعلان کیا تھا کہ وہ 2028 کی دوسری ششماہی تک ادنوک کے رویس منصوبے میں موجود 60 فیصد حصص قیمتِ لاگت پر حاصل کرے گی۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد، اس میں دو لیکویفیکشن ٹرینز شامل ہوں گی جن کی مشترکہ پیداواری صلاحیت 96 لاکھ ٹن سالانہ ہوگی۔ یوں ادنوک گیس کی موجودہ آپریٹنگ گنجائش دگنی ہو کر تقریباً ڈیڑھ کروڑ ٹن سالانہ تک پہنچ جائے گی۔