دبئی میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے بانجھ پن کے مریض میں کامیاب حمل

دبئی، 28 اگست، 2025 (وام)--دبئی کے فقہی آئی وی ایف سینٹر میں ماہرین نے جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) نظام کی مدد سے ایسے نایاب سپرم کی نشاندہی کی جو عام طریقۂ کار سے ممکن نہیں تھی، اور یوں ایک مریضہ میں کامیاب حمل ٹھہرا دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق یہ کامیابی ان جوڑوں کے لیے نئی کرن ہے جنہیں شدید مردانہ بانجھ پن کی وجہ سے پہلے علاج کے قابل نہیں سمجھا جاتا تھا۔

یہ انقلابی ٹیکنالوجی، جسے “SpermSearchAI” کہا جاتا ہے، اس وقت فقہی آئی وی ایف کے اشتراک سے کلینیکل ٹرائلز میں زیر استعمال ہے۔ یہ نظام ڈیپ لرننگ کے ذریعے ایمبریولوجسٹس کی مدد کرتا ہے اور پیچیدہ جراحی عمل کے دوران فوری طور پر قابلِ استعمال سپرم کی نشاندہی کر دیتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق 32 سالہ مرد مریض کو نان آبسٹرکٹیو ایزوسپرمیا (NOA) لاحق تھا، جس میں منی کے نمونوں میں سپرم بالکل موجود نہیں ہوتے۔ ماضی میں اس مریض کے لیے قدرتی حمل کے امکانات صفر قرار دیے گئے تھے۔

مائیکرو سرجیکل ٹیسٹیکولر اسپرم ایکسٹریکشن (microTESE) کے دوران ابتدائی معائنے میں کوئی سپرم دکھائی نہیں دیا۔ تاہم اے آئی سسٹم کے استعمال سے ماہرین نے بافتوں میں زندہ سپرم کی نشاندہی کی، جس کے ذریعے انٹرا سائٹوپلاسمک اسپرم انجیکشن (ICSI) ممکن ہوا۔ نتیجتاً وہ جوڑا، جو ڈھائی برس سے اولاد کی خواہش میں علاج کر رہا تھا، اب والدین بننے کی امید لیے منتظر ہے۔

ماہرین کے مطابق روایتی طور پر اس مرض کے علاج میں لمبے عرصے تک ٹیسٹیکولر ٹشو کو طاقتور خوردبینوں کے ذریعے ہاتھ سے کھنگالا جاتا ہے، اور اکثر یہ عمل ناکام رہتا ہے۔ ابتدائی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ اے آئی کے استعمال سے نہ صرف وقت میں نمایاں کمی آتی ہے بلکہ ایسے سپرم بھی مل جاتے ہیں جو عام حالات میں نظر انداز ہو جاتے۔

رپورٹس کے مطابق دنیا بھر کے متعدد فرٹیلیٹی سینٹرز میں اسی نوعیت کے تجربات جاری ہیں، اور ابتدائی نتائج علاج کی کامیابی اور مریضوں کے بہتر نتائج کے حوالے سے حوصلہ افزا ثابت ہو رہے ہیں۔