اسٹاک ہوم، 28 اگست، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات نے سویڈن میں منعقدہ ’’ورلڈ واٹر ویک‘‘ کے 35ویں ایڈیشن میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کی۔ وفد کی قیادت وزارتِ خارجہ کے اسسٹنٹ منسٹر برائے توانائی و پائیداری عبداللہ بلاعلہ نے کی۔
امارات کی شمولیت کا مقصد سینیگال کے ساتھ مل کر آئندہ سال 2026ء میں ہونے والی اقوام متحدہ کی واٹر کانفرنس کی میزبانی کی مشترکہ تیاریوں کو آگے بڑھانا ہے۔ یہ اقدام پائیدار ترقی کے ہدف نمبر 6 (SDG 6) یعنی ہر ایک کے لیے پانی اور صفائی کی فراہمی اور اس کا پائیدار انتظام یقینی بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سال فورم کا موضوع ’’ماحولیاتی عمل کے لیے پانی‘‘ رکھا گیا تھا، جس میں پانی کے کردار کو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے، خوراک و توانائی کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے فروغ میں بنیادی عنصر کے طور پر اجاگر کیا گیا۔ اجلاس میں 2026ء کی اقوام متحدہ واٹر کانفرنس پر خصوصی توجہ دی گئی، جس میں امارات نے فعال کردار ادا کیا۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عبداللہ بلاعلہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک کی جانب سے چھ انٹرایکٹو ڈائیلاگز پر اتفاق ایک سنگِ میل ہے جو عالمی ترجیحات کے تعین، جوابدہی اور عملی حل فراہم کرنے کے لیے واضح فریم ورک مہیا کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ امارات نے ’’واٹر فار پلینٹ‘‘ ڈائیلاگ متعارف کرایا ہے جو پانی اور ماحولیاتی عوامل کے باہمی تعلق کو اجاگر کرتا ہے اور ممالک کو اپنے ماحولیاتی منصوبوں میں پانی کے عنصر کو شامل کرنے پر آمادہ کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان ڈائیلاگز کے لیے دو شریک چیئرز کے انتخاب کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جس میں رکن ممالک کو اکتوبر کے وسط تک اپنی دلچسپی ظاہر کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ عمل جنوری 2026ء میں ڈکار میں منعقد ہونے والے ہائی لیول پریپریٹری اجلاس سے قبل مکمل کر لیا جائے گا۔
اماراتی وفد نے اس بات پر زور دیا کہ 2026ء کی کانفرنس شمولیتی انداز میں منعقد ہوگی جس میں اقوام متحدہ کے اداروں، حکومتوں، سول سوسائٹی، اکیڈمیا، نوجوانوں اور نجی شعبے کو شامل کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران انسانی پہلوؤں، مقامی و کمزور طبقات کے کردار، نوجوانوں کی شمولیت، اختراعی مالیاتی حل اور پانی کو عالمی ماحولیاتی و حیاتیاتی عمل میں شامل کرنے پر بھی غور کیا گیا۔
اس موقع پر عبداللہ بلاعلہ نے سویڈن کی وزارتِ خارجہ، وزارتِ ماحولیاتی و انٹرپرائز، سویڈش انرجی ایجنسی، کے ٹی ایچ رائل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، سویڈش سینٹر فار نیوکلیئر ٹیکنالوجی اور قطبی و آرکٹک امور کے سیکریٹریٹ سمیت کئی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے مصر کے وزیرِ آبی وسائل ڈاکٹر ہانی سویلم سے بھی خطے میں تعاون اور پانی کی سلامتی کے معاملات پر گفتگو کی۔
اماراتی سفیر برائے سویڈن غساق شاہین بھی اس وفد کے ہمراہ تھے، جنہوں نے امارات اور سویڈن کے درمیان پائیداری، پانی اور اختراع کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔
ماہرین کے مطابق، اس عالمی فورم میں امارات کی شرکت اس کے اس غیر متزلزل عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ پانی کی عالمی سلامتی اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے میں مرکزی کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ آئندہ سال سینیگال کے ساتھ مل کر منعقد کی جانے والی کانفرنس کو دنیا کے لیے ایک تاریخی موڑ قرار دیا جا رہا ہے جو اجتماعی کوششوں کو متحد کرے گی اور پائیدار مستقبل کے لیے عملی اقدامات کو تیز تر بنائے گی۔