دبئی، 29 اگست، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے غیر ملکی تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے یو اے ای میں ویتنام بزنس کونسل کے وفد سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کے درمیان تعاون بڑھانے اور جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سیپا) کے نفاذ کے بعد پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے پر بات چیت کی گئی۔
ڈاکٹر الزیودی نے اس موقع پر کہا کہ ویتنام، یو اے ای کا ایک قیمتی تجارتی شراکت دار ہے۔ 2025ء کی پہلی ششماہی میں دونوں ممالک کے درمیان غیر تیل تجارت کا حجم 7.02 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 16.9 فیصد زیادہ ہے۔ یہ سہ ماہی بنیاد پر 6.4 فیصد اضافے کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ 2024ء میں یہ تجارت مجموعی طور پر 12.6 ارب ڈالر رہی تھی، جو 2019ء کے مقابلے میں 54.3 فیصد زیادہ ہے۔
اس طرح ویتنام، آسیان (ASEAN) خطے میں یو اے ای کا سب سے بڑا غیر تیل تجارتی شراکت دار بنا رہا۔
ڈاکٹر الزیودی نے کہا کہ یو اے ای ویتنام کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو مزید فروغ دینے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ صنعتی ترقی کو سہارا دیا جا سکے۔
انہوں نے کہاکہ، “یو اے ای اور ویتنام دونوں اپنے نجی شعبوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرکے باہمی ترقی کے خواہاں ہیں۔ ہمارا سیپا معاہدہ برآمدکنندگان کے لیے نئی منڈیاں کھولنے اور عالمی سپلائی چینز تک رسائی بڑھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے کاروباری روابط کو مضبوط کریں تاکہ اس کے تمام فوائد حاصل کیے جا سکیں۔”
وزیر نے مزید کہا کہ قریبی تعاون کے ثمرات پہلے ہی سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے ویتنام میں لاجسٹک انفراسٹرکچر کی بہتری، خاص طور پر ہو چی منہ سٹی میں ’’سائیگون پریمیئر کنٹینر ٹرمینل‘‘ اور میکونگ ڈیلٹا میں نئی کارگو سروسز کے آغاز کا حوالہ دیا، جو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی شراکت داری کو مزید وسعت دے رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق یو اے ای نے آسیان ممالک کے ساتھ انڈونیشیا، کمبوڈیا، ملائیشیا اور ویتنام کے ساتھ جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے کیے ہیں، جن کی بدولت 2024ء میں یو اے ای کی غیر تیل غیر ملکی تجارت کا حجم بڑھ کر 37.7 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا۔ یہ 2023ء کے مقابلے میں 4.2 فیصد اور 2022ء کے مقابلے میں 16.8 فیصد زیادہ ہے۔ 2024ء میں آسیان ممالک کا یو اے ای کی عالمی غیر تیل تجارت میں حصہ 4.6 فیصد اور غیر عرب ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت میں 11.3 فیصد رہا۔