یمن میں سب سے بڑے سولر منصوبے، اماراتی تعاون سے ایک ملین سے زائد گھروں کو بجلی کی فراہمی

ابوظہبی، 29 اگست 2025 (وام)--یمن کے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ایک بڑا سنگِ میل طے کیا گیا ہے، جہاں اماراتی کمپنی گلوبل ساؤتھ یوٹیلٹیز (GSU) نے وزارتِ بجلی و توانائی یمن کے تعاون سے عدن سولر پاور پلانٹ کی توسیع اور شبوہ سولر پاور پلانٹ کا باضابطہ افتتاح کیا ہے۔ یہ منصوبے مجموعی طور پر 10 لاکھ سے زائد گھروں کو صاف بجلی فراہم کریں گے، جو یمن کی توانائی کی تاریخ میں سب سے بڑی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

گلوبل ساؤتھ یوٹیلٹیز کے مطابق شبوہ سولر پاور پلانٹ اب مکمل طور پر فعال ہے اور 3 لاکھ 30 ہزار گھروں کو بجلی فراہم کر رہا ہے، جبکہ عدن سولر پاور پلانٹ کی توسیع 2026ء میں مکمل ہونے پر 6 لاکھ 87 ہزار گھروں کو توانائی فراہم کرے گی۔ دونوں منصوبے مل کر یمن کے لیے سب سے بڑا کلین انرجی اقدام ثابت ہوں گے۔

شبوہ کا یہ پلانٹ 53 میگاواٹ بجلی اور 15 میگا واٹ آور بیٹری اسٹوریج کے ساتھ افتتاح کیا گیا ہے، جو سالانہ تقریباً 118,642 MWh بجلی پیدا کرے گا اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 62,727 ٹن سالانہ کمی لائے گا۔ پلانٹ میں 85,644 سولر پینلز، چھ ٹرانسفارمر اسٹیشنز، ایک مرکزی مانیٹرنگ بلڈنگ اور 15 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائن شامل ہے، جو آتق شہر اور چھ اضلاع کو بجلی فراہم کرے گی۔

اسی روز عدن سولر پاور پلانٹ کے دوسرے مرحلے کا بھی آغاز کیا گیا، جس کے تحت 120 میگاواٹ اضافی صلاحیت شامل کی گئی۔ منصوبہ مکمل ہونے پر اس پلانٹ کی مجموعی گنجائش 240 میگاواٹ تک پہنچ جائے گی، جو یمن کا سب سے بڑا سولر منصوبہ ہوگا۔ یہ مرحلہ اکیلا ہی سالانہ 247,000 MWh بجلی پیدا کرے گا اور 142,000 ٹن کاربن کے اخراج میں کمی لائے گا۔ دونوں مرحلوں کو ملا کر سالانہ اخراج میں کمی 285,000 ٹن تک پہنچے گی، جو 85 ہزار گاڑیوں کے اخراج کے برابر ہے۔

گلوبل ساؤتھ یوٹیلٹیز کے منیجنگ ڈائریکٹر و سی ای او علی الشمری نے کہا کہ عدن اور شبوہ میں ایک ملین سے زائد گھروں کو صاف اور قابلِ اعتماد بجلی فراہم کرنا صرف ایک انجینئرنگ کارنامہ نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے اور سماجی و اقتصادی استحکام کو فروغ دینے کے لیے ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری معیارِ زندگی بہتر بنانے، درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے۔

یہ منصوبے اس بات کی عملی تصویر ہیں کہ متحدہ عرب امارات اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کمیونٹیز کو پائیدار ترقی سے جوڑنے، توانائی کے محفوظ ذرائع فراہم کرنے اور یمن میں استحکام و ترقی کی راہیں ہموار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔