ابوظہبی، 31 اگست 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات نے سال 2025ء میں صاف توانائی کے عالمی سفر میں اپنی قیادت مزید مستحکم کر لی ہے۔ قومی کمپنیوں کی جانب سے براعظم ایشیا، افریقہ اور یورپ میں متعدد بڑے سولر توانائی منصوبوں پر سرمایہ کاری اور عمل درآمد کے ذریعے امارات کاربن کے اخراج میں کمی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔
سال کے آغاز میں امارات نے اٹلی اور البانیا کے ساتھ ایک سہ فریقی شراکت داری فریم ورک پر دستخط کیے، جس کے تحت البانیا میں بڑے پیمانے پر قابلِ تجدید توانائی منصوبے لگائے جائیں گے، جن میں سولر فوٹو وولٹک، ہوا سے بجلی اور ہائبرڈ ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ پیدا ہونے والی بجلی کا ایک حصہ اٹلی کو بھی برآمد کیا جائے گا۔
ابوظہبی فیوچر انرجی کمپنی (مصدر) نے رواں سال بین الاقوامی توسیع میں غیر معمولی پیش رفت کی ہے۔ اسپین میں مصدر نے اینڈیسہ کے چار سولر پلانٹس میں 49.99 فیصد شیئرز حاصل کر لیے جن کی مجموعی استعداد 446 میگاواٹ ہے۔ انڈونیشیا میں مصدر اور سرکاری کمپنی PT PLN کے درمیان دو معاہدے طے پائے ہیں، جن کے تحت ویسٹ جاوا کے جاٹیگڈے ڈیم پر تیرتے ہوئے سولر پلانٹس قائم کیے جائیں گے۔ یہ منصوبہ 2027ء تک مکمل ہوگا۔ ساتھ ہی مصدر نے 145 میگاواٹ کے سیراتا فلوٹنگ پاور پلانٹ کے توسیعی منصوبے پر بھی بات چیت کی ہے۔
سعودی عرب میں مصدر، جی ڈی پاور اور کوریا الیکٹرک پاور کارپوریشن کے اشتراک سے 2 گیگاواٹ "السداوی" سولر منصوبہ فنانشل کلوز کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جو وزارتِ توانائی کے نیشنل رینیوایبل انرجی پروگرام کا اہم حصہ ہے۔ اسی طرح ریاض کی مسک سٹی میں مصدر اور EDF کے مشترکہ منصوبے ایمرج نے 20 سالہ معاہدے کے تحت 621 کلوواٹ کے سولر روف ٹاپ پلانٹ کی تعمیر شروع کر دی ہے، جو شہر کو پائیدار توانائی فراہم کرے گا۔
افریقہ میں بھی اماراتی کمپنیاں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ مڈغاسکر میں گلوبل ساؤتھ یوٹیلٹیز (GSU) نے حکومت کے ساتھ 50 میگاواٹ سولر پلانٹ اور 25 میگاواٹ بیٹری اسٹوریج منصوبے پر دستخط کیے ہیں۔ مصر میں GSU نے شراکت دار کمپنیوں کے ساتھ 810 ملین درہم مالیت کے ایک بڑے منصوبے پر معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت عین سخنہ میں 200,000 مربع میٹر پر سولر سیلز اور ماڈیولز کے کارخانے قائم کیے جائیں گے تاکہ مصر اور افریقہ کو قابلِ اعتماد توانائی فراہم کی جا سکے۔
یمن میں عدن اور شبوہ کے سولر منصوبوں نے نیا سنگِ میل قائم کیا ہے، جن کے ذریعے 3 لاکھ 30 ہزار گھرانوں کو بجلی کی فراہمی ممکن ہوئی ہے۔ وسطی افریقی جمہوریہ میں 50 میگاواٹ کا سولر پاور پراجیکٹ زیرِ تعمیر ہے، جو 3 لاکھ گھرانوں کو توانائی فراہم کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ کوموروس میں 6.3 میگاواٹ کا سولر پلانٹ اماراتی فنڈنگ سے مکمل کیا گیا ہے، جو ملک کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات کو پورا کرنے اور معیشت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
یہ وسیع منصوبے اس بات کی گواہی ہیں کہ متحدہ عرب امارات نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں قابلِ تجدید توانائی کے میدان میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے اور پائیدار مستقبل کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔