ابوظہبی میں اکتوبر میں عالمی ماحولیاتی کانگریس، نایاب اقسام کی نئی ریڈ لسٹ اور بڑے فیصلوں کا اعلان متوقع

ابوظہبی، یکم ستمبر، 2025 (وام)--انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (IUCN) کے زیر اہتمام اور متحدہ عرب امارات کی وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی و ماحولیات و انوائرمنٹ ایجنسی ابوظہبی کی میزبانی میں عالمی ماحولیاتی کانگریس 2025ء نو سے پندرہ اکتوبر تک ابوظہبی میں منعقد ہوگی۔ اس موقع پر کئی اہم عالمی اقدامات کا اعلان کیا جائے گا جو مستقبل میں ماحولیات کے تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کے فروغ میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔

کانگریس میں سرکاری رہنماؤں، محققین، نوجوانوں، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور مقامی کمیونٹیز کو یکجا کیا جائے گا تاکہ ماحول کے تحفظ کے لیے نئی راہیں تلاش کی جا سکیں۔ اجلاس میں نایاب اقسام کی انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر ریڈ لسٹ کا نیا ایڈیشن، یورپی ریڈ لسٹ برائے پولینیٹرز، عالمی ورثہ سائٹس کی رپورٹ اور کئی ایوارڈز جیسے کولج میموریل میڈل اور انٹرنیشنل رینجر ایوارڈز کا اعلان بھی شامل ہے۔ اسی موقع پر آئندہ ورلڈ پارکس کانگریس کے میزبان ملک کا فیصلہ بھی متوقع ہے۔

متحدہ عرب امارات کی قیادت شیخ زاید مرحوم کے ویژن کے تحت ماحولیات کے تحفظ کو اپنی پالیسی کا حصہ بنائے ہوئے ہے۔ ملک نے 100 ملین مینگرووز لگانے کا ہدف 2030ء تک مقرر کیا ہے جبکہ نبت اے آئی کلائمیٹ پلیٹ فارم، جَیون ریسرچ ویسل اور پلانٹ جینیٹک ریسورسز سینٹر جیسے منصوبوں کے ذریعے سائنسی و تحقیقی جدت کے ساتھ روایتی دانش کو جوڑ کر ماحول دوست اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

وزیر ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر آمنہ بنت عبداللہ الضاحک نے کہا کہ امارات آج 49 قدرتی ریزروز کا گھر ہے جو ملک کے 15.5 فیصد رقبے پر محیط ہیں، اور یہ اس امر کی علامت ہے کہ ماحولیات اور قدرتی مسکن کی حفاظت امارات کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ماحول دوست پالیسیاں صرف ترقی کا حصہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے قدرتی وسائل کے تحفظ کا عہد ہیں۔

ایجنسی کی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر شیخہ سالم الظاہری نے کہا کہ یہ کانگریس محض ایک اجلاس نہیں بلکہ ایک عالمی سنگِ میل ہے، جہاں سیاست، سائنس اور ٹیکنالوجی مل کر مستقبل کے ماحولیاتی حل پیش کریں گے۔

انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر گریتل آگیلار کے مطابق یہ کانگریس ایک ایسا موقع ہے جہاں سائنسی بنیادوں پر حقیقی اور کمیونٹی پر مبنی اقدامات کیے جا سکیں گے تاکہ انسان اور فطرت دونوں ساتھ ساتھ ترقی کر سکیں۔

عالمی رہنماؤں، ماہرین اور کارکنوں پر مشتمل کانگریس میں 200 سے زائد تجاویز پر غور کیا جائے گا جو آئندہ برسوں کے لیے انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کی پالیسی ایجنڈا طے کریں گی۔