معذور افراد کے لیے صحت کے شعبے میں نئی سہولتیں، ایم42 کی 'سن فلاور پروگرام' میں شمولیت اختیار

ابوظہبی، یکم ستمبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کی عالمی سطح پر معروف ہیلتھ کمپنی ایم 42 نے معذور افراد کے لیے زیادہ جامع اور معاون ماحول فراہم کرنے کی جانب اہم قدم اٹھایا ہے۔ یہ ادارہ خطے کا پہلا ہیلتھ نیٹ ورک ہے جس نے ‘ہڈن چیلنجز سن فلاور’ پروگرام میں شمولیت اختیار کی ہے اور اپنی سہولتوں میں پورٹیبل ہیئرنگ لوپ سسٹمز متعارف کرائے ہیں۔

“ہِڈن چیلنجز سن فلاور” ایک عالمی پروگرام ہے جس کا مقصد اُن افراد کی مدد کرنا ہے جنہیں غیر مرئی (Non-visible) چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے تاکہ انہیں عوامی مقامات پر بہتر فہم، تعاون اور شمولیت مل سکے۔ سن فلاور ایک بین الاقوامی علامت ہے جو ایسے افراد کو اپنی اضافی مدد کی ضرورت ظاہر کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ مریض یا وزیٹر سبز سن فلاور لینیارڈ پہن کر اپنی شناخت ظاہر کر سکتے ہیں جبکہ ان کے حامی سفید لینیارڈ کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

یہ پروگرام ایم42 کے متعدد مراکز میں شروع کیا جا رہا ہے جن میں امپیریل کالج لندن ڈایبیٹیز اینڈ اینڈوکرائن سینٹر، ہیلتھ پوائنٹ، شیخ سلطان بن زاید ہسپتال، دانات الامارات ہسپتال اور کیپیٹل ہیلتھ اسکریننگ سینٹر شامل ہیں، جبکہ آئندہ مرحلوں میں اس کا دائرہ پورے نیٹ ورک تک پھیلایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایم42 نے اپنے مراکز کے مصروف ترین حصوں میں پورٹیبل ہیئرنگ لوپ سسٹمز بھی نصب کیے ہیں، جو سماعتی آلات یا کوکلیئر امپلانٹ استعمال کرنے والے مریضوں کے لیے آواز کو براہِ راست منتقل کرتے ہیں اور طبی ملاقاتوں کے دوران دباؤ کو کم کرتے ہیں۔

ایم42 کے گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر دیمیتریس مولواسلس نے کہا کہ صحت کے شعبے میں مساوات کا مطلب صرف رسائی فراہم کرنا نہیں بلکہ ہر فرد کو وہی عزت اور ذاتی توجہ دینا ہے جس کا وہ مستحق ہے۔ یہ اقدام اس عزم کا اظہار ہے کہ ہم ایسے ہیلتھ کیئر ماحول قائم کریں جہاں ہر مریض کو دیکھا، سنا اور سمجھا جائے۔

اسی حوالے سے “ٹاپ لینڈ” کے سی ای او اینڈی فالکنر نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ایم42 مشرقِ وسطیٰ کا پہلا ہیلتھ نیٹ ورک ہے جس نے سن فلاور پروگرام اپنایا۔ یہ قدم اس بات کا ثبوت ہے کہ مریضوں اور وزیٹرز، خاص طور پر غیر مرئی چیلنجز کے شکار افراد، کو ہمدردی اور جامع دیکھ بھال کے ساتھ سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

عالمی سطح پر ہر چھ میں سے ایک شخص معذور یا کسی غیر مرئی حالت جیسے آٹزم، دائمی امراض یا ذہنی مسائل کا شکار ہوتا ہے۔ ایم 42 کے اقدامات اس طبقے کے لیے ایک زیادہ باوقار، محفوظ اور شامل ماحول کی جانب عملی پیش رفت ہیں۔