موصل، 2 ستمبر، 2025 (وام)--عراق کے تاریخی شہر موصل میں متعدد ثقافتی و ورثہ مقامات کی ازسرِنو تعمیر کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں جمہوریہ عراق کے وزیراعظم محمد شیاع السوادنی اور متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ سطحی وفد نے شرکت کی۔ یہ یادگاریں اماراتی مالی معاونت اور یونیسکو و یورپی یونین کے اشتراک سے بحال کی گئیں۔
اماراتی وفد کی قیادت وزیر مملکت نورة بنت محمد الکعبی نے کی، جن کے ہمراہ وزیر ثقافت شیخ سالم بن خالد القاسمی بھی موجود تھے۔ تقریب میں عراق کے اعلیٰ حکام، وزراء، اور یونیسکو کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ یہ تقریب "Revive the Spirit of Mosul" (موصل کی روح کی بحالی) نامی عالمی مہم کے تحت تاریخی اہمیت کی حامل عمارات کی بحالی کا سنگِ میل قرار دی گئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نورة الکعبی نے عراق اور یونیسکو کے ساتھ مؤثر شراکت داری پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات، موصل کی عظیم مسجد النوری، اس کا تاریخی مینار "الحدباء"، اور چرچز "الطاہرہ" اور "الساعہ" کی بحالی میں مکمل طور پر پرعزم رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ، "موصل کی یادداشت اور شناخت کو محفوظ رکھنا ہماری ترجیح رہی ہے۔ ہمارا پیغام واضح تھا — متحدہ عرب امارات، عراق کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے تاکہ ان کے انسانی ورثے کو محفوظ، بحال اور محفوظ کیا جا سکے۔ یہ ورثہ صرف پتھروں کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانیت کی اجتماعی یادداشت ہے، جس کا تحفظ آئندہ نسلوں کے لیے ایک اخلاقی و انسانی ذمہ داری ہے۔"
نورة الکعبی نے مزید کہا کہ صدرِ امارات شیخ محمد بن زاید النہیان کی ہدایات کے تحت امارات نے موصل کی بحالی کو عالمی ذمہ داری سمجھ کر نبھایا۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ بین الاقوامی شراکت داری کی ایک کامیاب مثال بن چکا ہے۔
نورة الکعبی نے کہاکہ، “جب موصل کا مینار دوبارہ کھڑا ہوا، تو یہ صرف ایک تعمیراتی کامیابی نہیں بلکہ ایک اعلان تھا — کہ موصل کی آواز اُن تمام قوتوں سے بلند ہے جو اُسے خاموش کرنا چاہتے تھے۔ یہ امید کا استعارہ ہے کہ موصل ایک بار پھر تہذیب، زندگی اور بقائے باہمی کا استعارہ بن کر اُبھر رہا ہے۔”
وزیر ثقافت شیخ سالم بن خالد القاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ امارات تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ثقافت معاشرتی بحالی اور بین الثقافتی مکالمے کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
ان کے مطابق موصل کی روح کی بحالی کا منصوبہ بین الاقوامی تعاون کا ایک مثالی ماڈل ہے۔ یہ صرف عمارات کی مرمت تک محدود نہیں بلکہ مقامی افراد کی تربیت و تعلیم کے ذریعے کمیونٹی کو خودمختار بنانے کی جانب بھی ایک اہم قدم ہے۔
شیخ سالم نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے موصل کی بحالی کے لیے 50.4 ملین ڈالر مختص کیے ہیں، جب کہ یورپی یونین کی جانب سے 48.2 ملین ڈالر فراہم کیے گئے۔ یہ اعدادوشمار بین الاقوامی برادری کی جانب سے مشترکہ عزم کا مظہر ہیں۔
افتتاحی تقریب میں امارات کے عراق میں سفیر عبداللہ مطر المزروعی، یونیسکو میں مستقل مندوب علی الحاج، فیڈرل یوتھ اتھارٹی کے ڈائریکٹر خالد النعیمی، اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔