دبئی میں قابلِ رسائی سیاحت و سفر کی عالمی کانفرنس اکتوبر میں منعقد ہوگی

دبئی، 3 ستمبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی میں قابلِ رسائی سفر و سیاحت سے متعلق پانچویں بین الاقوامی کانفرنس (ATTIC-2025) کا انعقاد 7 سے 8 اکتوبر تک دبئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں کیا جائے گا۔ یہ کانفرنس شیخ احمد بن سعید المکتوم کی سرپرستی میں منعقد ہو رہی ہے، جو دبئی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے صدر، دبئی ایئرپورٹس اور امارات ایئرلائن کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو بھی ہیں۔

یہ بین الاقوامی اجلاس ان قوانین، پالیسیوں، انفرااسٹرکچر اور سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے جو خصوصی افراد — یعنی "پرسنز آف ڈیٹرمنیشن" — کو زمین، فضاء اور سمندر کے ذریعے آسان، باوقار اور خودمختار سفر کی سہولت فراہم کر سکیں۔ اس وقت دنیا بھر میں ایسے افراد کی تعداد 1.3 ارب سے تجاوز کر چکی ہے، جنہیں معیاری سفر اور سیاحتی مواقع میسر ہونے چاہئیں۔

کانفرنس میں اقوامِ متحدہ کی سیاحت سے متعلق تنظیم (UN Tourism)، ایئرپورٹس کونسل انٹرنیشنل (ACI World)، انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) اور دیگر عالمی و مقامی اداروں سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ سطحی حکام، ماہرین اور سیاحت، سفر، نقل و حرکت اور مارکیٹنگ سے وابستہ شخصیات شرکت کریں گی۔

شیخ احمد بن سعید المکتوم نے اس موقع پر کہا کہ انہیں فخر ہے کہ دبئی کو "آٹزم فرینڈلی سٹی" قرار دیا گیا ہے اور امارات ایئرلائنز و دبئی ایئرپورٹس کو شمولیتی سہولیات کا درجہ دیا گیا ہے۔ ان کے بقول یہ کامیابیاں اس مستقل تعاون اور انتھک عزم کا نتیجہ ہیں جو پرسنز آف ڈیٹرمنیشن کو بااختیار بنانے اور متحدہ عرب امارات کو قابلِ رسائی سیاحت میں عالمی رہنما کے طور پر اُبھارنے کے لیے جاری ہے۔

کانفرنس کے دوران ایک خصوصی نشست بعنوان "دبئی سے اسباق" بھی منعقد ہوگی، جس میں امارات ایئرلائن، دبئی ایئرپورٹس، روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA)، اور دبئی کی اقتصادی و سیاحتی اتھارٹی کے نمائندگان دبئی کی قابلِ رسائی سیاحت میں پیش رفت اور کامیاب تجربات پر روشنی ڈالیں گے۔

اعداد و شمار کے مطابق، دنیا کی 10 سے 15 فیصد آبادی — یعنی تقریباً 1.3 ارب افراد — کسی نہ کسی جسمانی یا ذہنی چیلنج کا شکار ہے، اور اندازہ ہے کہ یہ تعداد 2050 تک 2 ارب تک جا پہنچے گی۔ یورپی نیٹ ورک برائے قابلِ رسائی سیاحت کے مطابق، کم از کم 25 کروڑ 70 لاکھ سیاح ایسے مقامات کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں سہولیات ہر فرد کے لیے یکساں دستیاب ہوں، جس سے عالمی سیاحتی صنعت کو معاشی و سماجی سطح پر مزید وسعت دینے کے امکانات روشن ہو جاتے ہیں۔