یومِ خیرات: امارات کی عالمی فلاحی خدمات اور انسانی تعاون کا تسلسل

ابوظہبی، 4 ستمبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کل 5 ستمبر کو ہر سال کی طرح عالمی یومِ خیرات منائے گا۔ اس موقع پر امارات اپنے اس عزم کو دہرا رہا ہے کہ وہ عالمی سطح پر فلاحی، امدادی اور ترقیاتی کوششوں میں قائدانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔

امارات میں فلاحی کام محض روایت نہیں بلکہ ایک راسخ سماجی قدر ہے جو اتحاد کی بنیاد سے ہی قائم ہے۔ ملک نے ہمیشہ ضرورت مندوں کی مدد، آفات کے متاثرین کو ریلیف، اور بحرانوں، جنگوں اور تنازعات کے دوران انسانی تعاون کو فروغ دیا ہے۔ پرنسپلز آف 50 کے نویں اصول کے مطابق، امارات کی بیرونی انسانی امداد کو قومی وژن اور اخلاقی فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ اس تناظر میں، 2024 کے وسط تک امارات کی مجموعی بیرونی امداد کی مالیت 360 ارب درہم (98 ارب ڈالر) سے تجاوز کر چکی ہے۔

رواں برس یہ دن ایسے موقع پر آیا ہے جب امارات فلسطینی عوام کے لیے ‘آپریشن الفارس الشهم 3’ کے تحت امدادی سرگرمیوں کی قیادت کر رہا ہے۔ اسی طرح سوڈان کے عوام کے لیے بھی امداد فراہم کی جا رہی ہے جس کی مالیت گزشتہ دس برسوں میں 3.5 ارب ڈالر سے زائد رہی ہے۔ یوکرین کے عوام تک بھی رواں سال فروری تک اماراتی انسانی و ریلیف امداد کے 12 لاکھ سے زیادہ افراد مستفید ہو چکے ہیں۔

قدرتی آفات کے متاثرین کے لیے بھی امارات کا کردار نمایاں رہا ہے۔ جنوری 2025 میں چاڈ میں سیلاب متاثرہ علاقوں کے لیے 30 ہزار فوڈ باسکٹ اور 20 ہزار کمبل فراہم کیے گئے۔ صومالیہ میں سیلاب متاثرین کے لیے 700 ٹن خوراک بھیجی گئی، جبکہ میانمار میں زلزلے سے متاثرہ 80 ہزار افراد کے لیے ہنگامی امداد روانہ کی گئی۔ یکم ستمبر کو یمن کے مغربی ساحل پر سیلاب سے متاثرہ 960 خاندانوں کے لیے بھی خیمے، خوراک اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا گیا۔

مزید برآں، امارات ایڈ ایجنسی اور چاڈ کی حکومت کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں، جس کے تحت دارالحکومت انجامینا میں شیخہ فاطمہ بنت مبارک اسپتال اور ڈائیلاسز سینٹر تعمیر کیا جائے گا، تاکہ مریضوں کو جدید طبی خدمات فراہم کی جا سکیں۔

اسی برس، عالمی اثرات کی حامل کئی نئی مہمات کا بھی آغاز کیا گیا، جن میں "فادرز انڈومنٹ" مہم نمایاں ہے۔ اس مہم کی آمدنی کم وسائل رکھنے والی کمیونٹیز میں اسپتالوں کی تعمیر، دواؤں کی فراہمی اور صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے تاکہ ضرورت مند افراد کو بہتر طبی سہولتیں میسر آ سکیں۔