امارات اور بھارت کے درمیان معاشی تعلقات کو مزید فروغ دینے پر اتفاق

ابوظہبی، 4 ستمبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے غیر ملکی تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے امارات میں قائم انڈین بزنس کونسل کے نمائندوں سے ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات اور نجی شعبے کے تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر غور کیا گیا۔

یہ ملاقات اس سلسلے کی کڑی ہے جس کا مقصد جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سیپا) سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہے۔ یہ معاہدہ 2022 میں نافذ ہوا تھا اور اس نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات کو نمایاں طور پر گہرا کیا ہے۔

ڈاکٹر الزیودی نے اس موقع پر کہا کہ بھارت امارات کا ایک انتہائی اہم تجارتی شراکت دار ہے۔ ان کے مطابق، 2024 میں دونوں ممالک کے درمیان غیر تیل تجارت کی مالیت 65 ارب امریکی ڈالر تک جا پہنچی، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 19.7 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ مذاکرات کا مقصد نجی شعبے کے مابین تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور سیپا معاہدے سے حاصل ہونے والے مواقع کو زیادہ سے زیادہ استعمال میں لانا ہے۔

امارات اور بھارت کے درمیان سیپا، مئی 2022 میں نافذ ہونے والا پہلا معاہدہ تھا، جو امارات کے پرعزم تجارتی پروگرام کا حصہ ہے۔ اس معاہدے نے زرعی پیداوار، قابل تجدید توانائی اور لاجسٹکس سمیت کئی شعبوں میں نئی راہیں کھولی ہیں اور نجی شعبے کے باہمی تعاون کو فروغ دیا ہے۔

ڈاکٹر الزیودی نے حالیہ اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے رواں سال انڈیا-یو اے ای اسٹارٹ اپ سیریز کا آغاز کیا، جس سے کاروباری افراد کو ایک دوسرے کی منڈیوں تک رسائی مل رہی ہے۔ اسی طرح، امارات میں بھارت مارٹ کے نام سے ایک بڑا تجارتی مرکز قائم کیا جا رہا ہے تاکہ بھارتی مینوفیکچررز اور ایکسپورٹرز عالمی منڈیوں تک پہنچ سکیں۔ مزید برآں، کراس بارڈر پیمنٹ سسٹمز کو بہتر بنانے اور انضمام کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور یو اے ای-انڈیا سیپا کونسل کا قیام عمل میں آیا ہے تاکہ معاہدے کے مواقع سے مکمل استفادہ کیا جا سکے۔

وزارتِ تجارت کے مطابق، سیپا معاہدے نے پہلے ہی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی رکاوٹوں کو کم کر کے سرمایہ کاری کے بہاؤ میں اضافہ کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں دوطرفہ تجارت میں خاطر خواہ ترقی سامنے آئی ہے، جس نے امارات اور بھارت کو عالمی منڈی میں ایک دوسرے کے لیے ناگزیر شراکت دار کے طور پر مستحکم کیا ہے۔