صدر شیخ محمد بن زاید کی سرپرستی میں جدید ترین اوپن سورس اے آئی ماڈل ’’کے ٹو تھنک‘‘ کی لانچنگ

ابوظہبی، 7 ستمبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان نے دنیا کے جدید ترین اوپن سورس ریزننگ ماڈل "کے ٹو تھنک" کے اجراء کی منظوری دے دی ہے۔

شیخ محمد بن زاید نے کہا کہ متحدہ عرب امارات جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کو قومی ترقی اور عالمی پیش رفت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے پرعزم ہے، تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔

یہ اعلان مرحوم شیخ خلیفہ بن زاید النہیان کی سالگرہ کے موقع پر کیا گیا، جنہوں نے امارات میں سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کی بنیاد رکھی تھی۔

مصنوعی ذہانت کے میدان میں ’’ریزننگ‘‘ کو مستقبل کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے اے آئی نہ صرف دیکھنے، سننے یا تخلیق کرنے کے قابل ہوگی بلکہ پیچیدہ مسائل کو حل کرنے اور نئی سائنسی ایجادات و تحقیق کے در کھولنے کی صلاحیت بھی حاصل کرے گی۔

آنے والے ہفتے میں محمد بن زاید یونیورسٹی آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس (MBZUAI) اور جی42 گروپ مشترکہ طور پر "کے ٹو تھنک" کو لانچ کریں گے۔ یہ ماڈل کم وسائل میں زیادہ کارکردگی کا حامل ہے اور کئی بڑے ماڈلز کے برابر یا ان سے بہتر نتائج فراہم کرتا ہے۔

اس موقع پر ابوظہبی کے نائب حکمران اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس و جدید ٹیکنالوجی کونسل کے چیئرمین شیخ طحنون بن زاید النہیان نے کہا کہ ’’کے ٹو تھنک‘‘ کا اجرا امارات کے لیے ایک سنگ میل ہے، جو ملک کو جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی قیادت دلانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

انہوں نے محمد بن زاید یونیورسٹی آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور جی42 کے اشتراک کو ایک شاندار مثال قرار دیا، جو قومی ترقی کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے مؤثر شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ منصوبہ دراصل یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف فاؤنڈیشن ماڈلز اور جی42 کے قریبی تعاون کا نتیجہ ہے، جو امارات میں عالمی معیار کی تحقیق، انجینئرنگ اور جدید انفراسٹرکچر کے امتزاج کو اجاگر کرتا ہے۔

’’کے ٹو تھنک‘‘ صرف ایک ماڈل نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کی تاریخ کا سنگ میل ہے، جو دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ کھلی جدت اور صنعتی تعاون ہی اے آئی کے نئے دور کی بنیاد بنیں گے۔