ولی عہد کی زیرصدارت ادنوک ایگزیکٹیو کمیٹی کا اجلاس

ابوظہبی، 8 ستمبر، 2025 (وام)--ابوظہبی کے ولی عہد اور ایگزیکٹیو کونسل کے چیئرمین عزت مآب شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کی زیر صدارت ادنوک بورڈ کی ایگزیکٹیو کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

اجلاس میں ادارے کی مالی کارکردگی اور اسٹریٹجک ترجیحات کا جائزہ لیا گیا، جن میں مصنوعی ذہانت کا استعمال، ملکی سطح پر توانائی کے منصوبے، بین الاقوامی سرمایہ کاری کمپنی ایکس آر جی (XRG) کے ذریعے عالمی توسیع، آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کرنا اور ابوظہبی کے تیل و گیس وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا شامل ہے۔

شیخ خالد بن محمد نے کہا کہ ادنوک کو اپنی ترقیاتی حکمتِ عملیوں کو مستحکم رکھنا ہوگا تاکہ وہ بدلتی ہوئی عالمی توانائی مارکیٹ میں مسابقتی اور مضبوط رہے اور طویل المدتی قومی مفاد کو یقینی بنائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ادنوک کی بین الاقوامی توسیع میں اہم کردار کمپنی کی سرمایہ کاری شراکت داریوں کا ہے، جن میں 'bp' کے ساتھ مصر میں گیس کا مشترکہ منصوبہ، آذربائیجان میں ابشیرون فیلڈ میں حصہ داری اور ترکمانستان کے ‘آف شور بلاک 1’ میں شمولیت شامل ہیں۔

اجلاس میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ ادنوک نے اپنے تجارتی آپریشنز کو وسعت دیتے ہوئے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں دفتر قائم کیا ہے۔ صرف پانچ برسوں میں ادارے کے تجارتی منصوبے نہ صرف ملک کے لیے خاطر خواہ آمدنی لائے بلکہ اماراتی نوجوانوں کو عالمی تجارتی مہارتیں بھی فراہم کی ہیں۔

شیخ خالد نے ادارے کو ہدایت کی کہ تجارتی سرگرمیوں میں مصنوعی ذہانت کا مزید استعمال کیا جائے تاکہ کارکردگی اور مسابقت میں اضافہ ہو۔

ادنوک کے غیر روایتی گیس منصوبے خاص طور پر الرویس دیاب فیلڈ میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ توسیع جدید ٹیکنالوجی اور اے آئی کے استعمال سے ممکن ہوئی ہے جس سے اخراجات میں کمی آئی ہے۔

شیخ خالد نے ہدایت کی کہ عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون بڑھایا جائے تاکہ ابوظہبی کی ہائیڈروکاربن وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکے اور عالمی توانائی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کیا جا سکے۔

اجلاس میں یہ بات بھی اجاگر ہوئی کہ 2025، ابوظہبی میں تیل و گیس کی تلاش کے آغاز کی پچھترویں سالگرہ ہے، جب پہلی بار راس الصدر میں کھدائی کی گئی تھی۔ یہ سنگ میل متحدہ عرب امارات کی استقامت اور وژن کا عکاس ہے۔

ادنوک اور ADQ کی مشترکہ کمپنی تعزیز (TA’ZIZ) کے تحت الرویس انڈسٹریل سٹی (الظفرہ ریجن) میں کیمیائی مصنوعات تیار کرنے والے منصوبے جاری ہیں، جن میں میتھانول، کم کاربن امونیا، کاسٹک سوڈا، وینائل کلورائیڈ اور پی وی سی شامل ہیں۔
پانچ منصوبے زیرِ تعمیر ہیں جبکہ چھٹے کا کنٹریکٹ سال کے آخر تک دیا جائے گا۔ امونیا پلانٹ کی تعمیر تیزی سے جاری ہے جو 2026 کی آخری سہ ماہی میں مکمل ہوگا۔

اجلاس میں ڈاکٹر سلطان احمد الجابر، سہیل محمد المزروعی، احمد علی الصایغ، خالدون خلیفہ المبارک، جاسم محمد بوعتابہ الزعابی اور عمر سوینة السویدی بھی شریک ہوئے۔