این ایم ڈی سی گروپ اور ادنوک لاجسٹکس اینڈ سروسز کے درمیان تین سالہ معاہدہ

ابوظہبی، 10 ستمبر 2025 (وام)--این ایم ڈی سی گروپ پی جے ایس سی اور ادنوک لاجسٹکس اینڈ سروسز پی ایل سی نے سمندری خدمات کی فراہمی اور آف شور منصوبوں میں تعاون کے لیے تین سالہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

یہ معاہدہ ابوظہبی میں این ایم ڈی سی کے ہیڈکوارٹرز میں گروپ سی ای او انجینئر یاسر زغلول اور ادنوک لاجسٹکس اینڈ سروسز کے سی ای او کیپٹن عبد الکریم المسابی کے درمیان طے پایا۔

یہ معاہدہ دونوں اداروں کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط بناتا ہے اور ابوظہبی کے آف شور ای پی سی منصوبوں میں تعاون کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ معاہدے میں سمندری خدمات اور انٹیگریٹڈ لاجسٹکس کی دفعات شامل ہیں، جو دونوں کمپنیوں کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ امارت کے آف شور انرجی سیکٹر کی بھرپور معاونت کریں گی۔

اس موقع پر انجینئر یاسر زغلول نے اپنے بیان میں کہا کہ این ایم ڈی سی گروپ نے گزشتہ 50 برسوں میں ملٹی سیکٹر میرین ای پی سی انفراسٹرکچر اور پیچیدہ منصوبہ جاتی لاجسٹکس میں اپنی بے مثال مہارت ثابت کی ہے۔ حال ہی میں این ایم ڈی سی ایل ٹی ایس کے آغاز نے مارکیٹ کو ان صلاحیتوں سے مزید فائدہ پہنچایا۔ ادنوک لاجسٹکس اینڈ سروسز بھی آف شور انرجی سپورٹ اور ہائیڈروکاربن لاجسٹکس کے شعبے میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ دونوں ادارے خطے کے بڑے میرین فلیٹس میں سے شمار ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ دونوں اداروں کے درمیان ایک مضبوط فریم ورک فراہم کرے گا جس کے ذریعے ہم اپنے مختلف شعبوں میں صلاحیتوں کو یکجا کر کے تعاون کو فروغ دیں گے، مارکیٹ میں فرق پیدا کریں گے اور ویلیو میں اضافہ کریں گے، جو ابوظہبی اور اس سے آگے کے صنعتی میرین سیکٹر کو مزید مضبوط بنائے گا۔

کیپٹن عبد الکریم المسابی نے کہا کہ، "یہ شراکت داری ادنوک لاجسٹکس اینڈ سروسز کے طویل المدتی ہدف کی معاون ہے جس کے تحت ہم عالمی معیار کے انٹیگریٹڈ لاجسٹکس حل فراہم کر کے امارات کے آف شور انرجی سیکٹر کو ترقی دینا چاہتے ہیں۔ این ایم ڈی سی کے ساتھ اپنی مہارت کو یکجا کر کے ہم نئی مواقع پیدا کریں گے، اپنے شیئر ہولڈرز اور صارفین کے لیے قدر میں اضافہ کریں گے اور امارات کی معاشی ترقی کو آگے بڑھائیں گے۔"

ادنوک لاجسٹکس اینڈ سروسز آف شور لاجسٹکس کے شعبے میں کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے اور اس معاہدے جیسے اشتراکات کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کو مزید وسعت دے رہا ہے۔