ابو ظہبی ورلڈ پروفیشنل جیو جِتسو چیمپئن شپ کے لیے 30 لاکھ درہم انعامی رقم کا اعلان

ابوظہبی، 10 ستمبر، 2025 (وام)--ابو ظہبی ورلڈ پروفیشنل جیو جِتسو چیمپئن شپ کی آرگنائزنگ کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ 17ویں ایڈیشن کے لیے کل 30 لاکھ درہم انعامی رقم مختص کی گئی ہے۔ یہ ایونٹ 12 سے 22 نومبر تک ابو ظہبی کے مبادلہ ارینا میں منعقد ہوگا۔

یہ چیمپئن شپ ابوظہبی کے ولی عہد اور ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین، عزت مآب شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کی سرپرستی میں منعقد ہو رہی ہے۔

اعلان کردہ انعامی رقم اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ چیمپئن شپ جیو جِتسو کے عالمی کیلنڈر کا سب سے بڑا ایونٹ ہے اور دنیا بھر کے کھلاڑیوں کے لیے اضافی ترغیب فراہم کرتی ہے۔ اس سال 10 ہزار سے زائد کھلاڑیوں کی شرکت متوقع ہے، جو ابو ظہبی کی حیثیت کو جیو جِتسو کے عالمی دارالحکومت کے طور پر مزید مستحکم کرے گا۔

یہ مقابلے پہلی بار 2009 میں منعقد ہوئے تھے جن میں صرف 500 کھلاڑی 50 ممالک سے شریک ہوئے تھے، تاہم گزشتہ برس کے 16ویں ایڈیشن میں یہ تعداد بڑھ کر 8 ہزار سے تجاوز کر گئی۔

17واں ایڈیشن شائقین کو 11 روزہ جامع جیو جِتسو ایونٹ فراہم کرے گا، جو 12 نومبر کو ایمیچر مقابلوں سے شروع ہوگا۔ 13 سے 15 نومبر تک بچوں کی کیٹیگریز، 13 نومبر کو پیرا جیو جِتسو میچز، 16 اور 17 نومبر کو یوتھ مقابلے، 18 اور 19 نومبر کو ماسٹرز ایونٹس ہوں گے، جب کہ ایونٹ کا اختتام 20 سے 22 نومبر تک پروفیشنل مقابلوں کے ساتھ ہوگا۔

اس موقع پر یو اے ای جیو جِتسو فیڈریشن کے نائب چیئرمین اور آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین محمد سالم الظاہری نے کہاکہ، "17ویں ایڈیشن کے لیے 30 لاکھ درہم انعامی رقم کا اعلان اس عزم کا مظہر ہے کہ چیمپئن شپ کو عالمی پلیٹ فارم بنایا جائے، ساتھ ہی کھلاڑیوں کو اعلیٰ معیار کی کارکردگی دکھانے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ ہم قیادت کی بھرپور سرپرستی کی بدولت ایک شاندار ایڈیشن کے لیے تیار ہیں، جس میں 10 ہزار سے زائد کھلاڑی شریک ہوں گے اور کھیل کی اقدار کے تحت مختلف ثقافتوں کو یکجا کریں گے۔

کمیٹی نے اس ایڈیشن کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی تیاریاں تیز کر دی ہیں اور مختلف اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے، جن میں ابو ظہبی پولیس، محکمۂ ثقافت و سیاحت – ابوظہبی، اور وزارتِ داخلہ شامل ہیں۔

ریکارڈ تعداد میں شرکاء کی متوقع آمد کے پیشِ نظر کمیٹی اپنی کوششیں مزید تیز کر رہی ہے تاکہ اس سال کا ایونٹ ایک بے مثال تجربہ ثابت ہو اور ابو ظہبی کی حیثیت کو عالمی اسپورٹس کیپیٹل کے طور پر مزید اجاگر کرے، جو مقامی اور عالمی سطح پر مثبت اثرات مرتب کرے گا۔