مریخ پر زندگی کے آثار کی تلاش میں نیا سنگ میل، ناسا کا انکشاف

واشنگٹن، 15 ستمبر، 2025 (وام)--ناسا کے خلائی مشن "پرسویئرنس روور" کی جانب سے جولائی 2024 میں لیے گئے ’’سیفائر کینین‘‘ مڈ اسٹون کور کے تجزیے نے مریخ پر زندگی کے امکانات کی تلاش میں نئی امید اجاگر کی ہے۔

تحقیق میں ایسے معدنیات اور بناوٹ دریافت ہوئی ہیں جو زمین پر عام طور پر خرد حیاتیاتی سرگرمیوں (microbial activity) سے منسلک ہوتے ہیں۔ تاہم ماہرین نے وضاحت کی کہ ان نشانات کی غیر حیاتیاتی (non-biological) وجوہات بھی ممکن ہیں۔

ناسا کے قائم مقام ایڈمنسٹریٹر شان ڈفی نے کہاکہ، ’’یہ دریافت مریخ پر زندگی کا قریب ترین ثبوت ہے جو ہمیں اب تک ملا ہے۔ ممکنہ حیاتیاتی نشان کی موجودگی ایک انقلابی پیش رفت ہے جو ہماری مریخ کے بارے میں سمجھ کو مزید آگے بڑھائے گی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ناسا "گولڈ اسٹینڈرڈ سائنس" کے اصول کے ساتھ اپنی تحقیق جاری رکھے گا جبکہ ہمارا ہدف مریخ کی سطح پر امریکی خلا بازوں کو اتارنا ہے۔

یہ کور ’’شیوایا فالز‘‘ نامی چٹان سے حاصل کیا گیا جو نریٹوا ویلس میں واقع ہے۔ یہ قدیم دریا کی ایک نہر ہے جو ماضی میں جزیرو کریٹر کی جھیل میں پانی لاتی تھی۔

نمونہ حاصل کرنے کے بعد روور نے اسے بند کر دیا تاکہ مستقبل میں زمین پر واپس لا کر جدید ترین لیبارٹریوں میں مزید تجزیے کیے جا سکیں، جو روور کی موجودہ صلاحیتوں سے کہیں بڑھ کر ہوں گے۔