یونیورسٹی آف شارجہ کی بین الاقوامی تحقیق میں شمولیت، نوزائیدہ بچوں میں دماغی چوٹ کم کرنے کی نئی دوا کی تیاری پر پیشرفت

شارجہ، 17 ستمبر 2025 (وام)--یونیورسٹی آف شارجہ کی ایک تحقیقی ٹیم نے ایک بین الاقوامی مطالعے میں حصہ لیا ہے جس کا مقصد ایسی ممکنہ دوا تیار کرنا ہے جو نوزائیدہ بچوں میں خون اور آکسیجن کی کمی کے باعث ہونے والی دماغی چوٹ کو کم کر سکے۔

یہ مرض طبّی اصطلاح میں ہائپوکسک-اسکیمک انسیفالوپیتھی کہلاتا ہے اور نومولود بچوں میں طویل المدتی حرکی اور دماغی معذوریوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ فی الحال اس کا علاج محدود ہے اور زیادہ تر تھراپیوٹک ہائپوتھرمیا پر انحصار کیا جاتا ہے، جو مکمل تحفظ فراہم نہیں کرتا۔

مطالعہ، جو جون 2025 میں جرنل نیورو تھیراپیوٹکس میں شائع ہوا، نے ایک نئی تجرباتی دوا BRT_002 کی افادیت کو ظاہر کیا۔ یہ دوا پیورین سے حاصل کردہ مرکب ہے اور تجرباتی جانوروں میں دماغی نقصان کو کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوئی، جو نوزائیدہ میں خون اور آکسیجن کی کمی کے حالات کی عکاسی کرتا ہے۔

یونیورسٹی آف شارجہ کی ٹیم میں پروفیسر رفعت حمودی (پیتھالوجی، کمپیوٹیشنل میڈیسن اور بایوانفارمیٹکس، کالج آف میڈیسن)، ڈاکٹر رانیہ حرطی (مالیکیولر فارماکولوجی، کالج آف فارمیسی) اور ڈاکٹر امل بوزید (بایوانجینئرنگ، بایوانفارمیٹکس اور ہیومن جینیٹکس، ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز) شامل تھے۔

یہ منصوبہ فرانس، امریکہ، سویڈن، متحدہ عرب امارات اور دیگر کئی بین الاقوامی سائنسی اداروں کے محققین کے تعاون سے مکمل کیا گیا۔