امارات کی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی جنرل کانفرنس میں شرکت، پُرامن ایٹمی توانائی کے عزم کا اعادہ

ویانا، 17 ستمبر 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات نے ویانا میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے صدر دفتر میں جاری 69ویں سالانہ جنرل کانفرنس میں شرکت کی، جو 15 سے 19 ستمبر تک "ایٹمی شعبے میں عالمی تعاون" کے عنوان کے تحت منعقد ہو رہی ہے۔

اماراتی وفد کی قیادت آئی اے ای اے میں مستقل مندوب سفیر حمد الکعبی کر رہے ہیں، جس میں ایٹمی شعبے سے متعلق قومی ادارے، وفاقی اتھارٹی برائے نیوکلیئر ریگولیشن اور امارات نیوکلیئر انرجی کمپنی شامل ہیں۔

حمد الکعبی نے جنرل کانفرنس کے اجلاس عام میں امارات کا بیان پیش کیا جس میں یو اے ای اور آئی اے ای اے کے مضبوط تعلقات پر روشنی ڈالی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے پانچ دہائیوں پر محیط شراکت داری نے امارات کو پُرامن ایٹمی پروگرام قائم کرنے میں مدد دی، جو ایٹمی سلامتی، تحفظ اور عدم پھیلاؤ کے اعلیٰ معیارات پر پورا اترتا ہے۔

انہوں نے رکن ممالک سے خطاب میں کہا کہ، "امارات مستقبل کی ایٹمی جدت کے لیے تیاری کر رہا ہے۔ ہم نے ایسے پروگرام شروع کیے ہیں جو جدید ری ایکٹرز، بشمول اسمال ماڈیولر ری ایکٹرز، کی صلاحیت کا جائزہ لینے کے لیے بنائے گئے ہیں تاکہ کاربن کے اخراج میں کمی لائی جا سکے اور ایٹمی ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں مربوط کیا جا سکے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "امارات انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ساتھ اپنی مضبوط اور پائیدار شراکت داری کے عزم پر قائم ہے۔ براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ اب ہمارے توانائی کے نظام کا بنیادی ستون ہے، اور جدید ایٹمی ٹیکنالوجی، سلامتی، تحفظ اور حفاظتی اقدامات میں ہماری نئی پہل اس بات کا عملی مظاہرہ ہے کہ امارات ایٹمی توانائی کو پُرامن اور ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کر رہا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ایجنسی اور رکن ممالک کے ساتھ تعاون کے ذریعے ایٹمی توانائی دنیا بھر میں امن، خوشحالی اور پائیدار ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔"

اماراتی وفد کانفرنس کے دوران مختلف بین الاقوامی اداروں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں کرے گا تاکہ ایٹمی پالیسی، ریگولیشن اور صنعت سے متعلق امور پر تعاون کے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔

اس موقع پر وفاقی اتھارٹی برائے نیوکلیئر ریگولیشن بین الاقوامی ریگولیٹری اداروں کے ساتھ کئی معاہدوں پر دستخط کرے گا جو تحقیق و ترقی اور ایٹمی سلامتی و تابکاری کے تحفظ میں معلومات کے تبادلے جیسے موضوعات کا احاطہ کریں گے۔

مزید برآں، امارات "سینئر سیفٹی اینڈ سیکیورٹی ریگولیٹرز میٹنگ" میں بھی شریک ہوگا جہاں ریگولیٹری صلاحیت کو بڑھانے، لچکدار ریگولیٹری نظام کے فروغ اور ایک پائیدار ریگولیٹری ماحول کے قیام پر گفتگو کی جائے گی۔