98 فیصد سائبر حملوں میں سماجی انجینئرنگ کے حربے استعمال ہوتے ہیں، سائبر سکیورٹی کونسل

ابوظہبی، 21 ستمبر 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کی سائبر سکیورٹی کونسل نے خبردار کیا ہے کہ تقریباً 98 فیصد سائبر حملوں میں سماجی انجینئرنگ کے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں، جو تکنیکی خامیوں کے بجائے انسانی کمزوریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

یہ انتباہ کونسل کی "سائبر پلس" مہم کے چھٹے ہفتے کے دوران سامنے آیا، جو 52 ہفتوں پر مشتمل آگاہی مہم ہے۔ اس مہم کا مقصد افراد اور اداروں میں ڈیجیٹل شعور پیدا کرنا اور سائبر حملوں کے خلاف ان کی مزاحمت کو بڑھانا ہے۔

کونسل کے مطابق حملہ آور عموماً خود کو سرکاری اہلکار، دوست یا کسی معتبر ادارے کے نمائندے کے طور پر ظاہر کرتے ہیں تاکہ متاثرہ افراد کو حساس معلومات دینے یا نقصان دہ عمل کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ ان کے حربوں میں جعلی انعامات کی پیشکش، معتبر اداروں کی نقالی، فوری دھمکیاں دینا اور متاثرہ افراد کو متضاد معلومات سے الجھانا شامل ہیں۔

کونسل نے کہا کہ فراڈ کرنے والے صرف میلویئر پر انحصار نہیں کرتے بلکہ براہِ راست رابطے کے ذریعے ہمدردی، خوف یا عجلت کا تاثر پیدا کر کے جذبات سے کھیلتے ہیں اور اعتماد قائم کرتے ہیں۔ ان کا اصل مقصد اکثر بینکاری یا ذاتی معلومات حاصل کرنا یا متاثرہ افراد پر فوری فیصلے کرنے کا دباؤ ڈالنا ہوتا ہے۔

کونسل نے عوام پر زور دیا کہ وہ ہمیشہ شناخت کی تصدیق کریں، ذاتی معلومات جیسے اکاؤنٹ کی تفصیلات یا پاس ورڈ کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں اور اچانک ملنے والے ایسے پیغامات سے محتاط رہیں جن میں فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہو۔ ساتھ ہی عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سرکاری انتباہات پر نظر رکھیں اور سائبر سکیورٹی سے متعلق ہدایات سے باخبر رہیں۔

"سائبر پلس" مہم اپنے دوسرے سال میں داخل ہو چکی ہے اور اس کا مقصد ڈیجیٹل تحفظ کو مزید مؤثر بنانا، صارفین کو بڑھتے ہوئے سائبر خطرات سے بچانا اور اماراتی ڈیجیٹل نظام پر اعتماد کو مستحکم کرنا ہے۔