ابوظہبی، 21 ستمبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے معیشت اور سیاحت کے وزیر عبداللہ بن طوق المری کے مطابق اسٹارٹ اپس اور کاروباری افراد متحدہ عرب امارات کی معاشی ترقی کے سفر کا بنیادی ستون ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کا ہدف 2031 تک کمپنیوں کی تعداد کو دو ملین سے زیادہ تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے یہ بات قومی مہم "امارات: دنیا کا اسٹارٹ اپ کیپیٹل" کی تفصیلات بتانے والی پریس کانفرنس کے موقع پر ایمریٹس نیوز ایجنسی، وام سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ المری نے کہا کہ اسی مدت میں ملک سے دس "یونیکورن" کمپنیوں کے ابھرنے کا بھی ہدف مقرر کیا گیا ہے، جن میں سے تقریباً پانچ پہلے ہی وجود میں آچکی ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ قومی مہم ان اہداف کی تکمیل میں معاون ہے کیونکہ یہ نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے، ترقی دینے اور توسیع کی جانب بڑھنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔
وزیر معیشت و سیاحت نے کہا کہ متحدہ عرب امارات ایسی جامع حکمت عملیاں رکھتا ہے جن میں اقتصادی کلسٹرز، غذائی تحفظ، جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدوں کے ذریعے معاشی کشادگی، اختراع اور دانشورانہ املاک کے تحفظ کی پالیسیاں شامل ہیں۔ ان کے مطابق قومی ڈھانچہ وفاقی اور مقامی دونوں سطحوں پر اسٹارٹ اپس کی ترقی کی مکمل حمایت کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات میں اس وقت 12 لاکھ سے زیادہ کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جن میں سے ایک ملین کے قریب کاروباری افراد کی ملکیت ہیں۔ یہ تعداد ملک میں کاروباری طبقے کے کردار کو ظاہر کرتی ہے جو قومی معیشت کو مستحکم کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
وزارت کے مطابق چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) نے 2022 کے وسط تک قومی معیشت کے غیر تیل والے شعبے کی مجموعی پیداوار میں 63.5 فیصد حصہ ڈالا، جبکہ ایس ایم ایز متحدہ عرب امارات کی کل کمپنیوں کا 95 فیصد ہیں۔