نیویارک، 24 ستمبر، 2025 (وام)--وزیرِ مملکت برائے غیر ملکی تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے یو اے ای–یو ایس بزنس کونسل کے گول میز اجلاس اور امریکی چیمبر آف کامرس کے سیشن میں شرکت کی، جہاں انہوں نے نمایاں امریکی کاروباری رہنماؤں اور پالیسی سازوں سے ملاقاتیں کیں۔
ڈاکٹر الزیودی نے کہا کہ دونوں ملک تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھا کر اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا، یو اے ای کا دنیا میں چھٹا بڑا تجارتی شریک ہے؛ 2024 میں غیر تیل تجارت 38 ارب ڈالر رہی جو پچھلے پانچ برس میں 44.5 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ 2025 کی پہلی ششماہی میں یہ تجارت 19.3 ارب ڈالر رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک اختراع، ترقی اور معاشی نمو کے مشترک ہدف رکھتے ہیں اور مل کر نئی ٹیکنالوجیز، روزگار کے مواقع اور عالمی معیشت کیلئے اہم نئے شعبے آگے بڑھا سکتے ہیں۔ بزنس کونسل کے اجلاس میں انہوں نے جاری شراکت داریوں کی مثالیں بھی دیں، جن میں اے ڈی کیو اور انرجی کیپیٹل پارٹنرز کا 25 ارب ڈالر کا امریکی توانائی پیداوار میں سرمایہ کاری کا مشترکہ منصوبہ شامل ہے۔
مزید یہ کہ ایمریٹس گلوبل ایلومینیم کی جانب سے امریکا میں 45 برس بعد پہلی نئی ایلومینیم اسملٹر کے قیام کیلئے 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہزاروں امریکی روزگار پیدا کرے گی اور سیمی کنڈکٹرز و برقی گاڑیوں کی پیداوار کو سہارا دے گی۔ امریکی چیمبر آف کامرس میں بھی دونوں فریقوں نے اقتصادی تعاون کے امکانات پر بات کی۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والی ان ملاقاتوں نے ایسے لائحۂ عمل کی بنیاد رکھی جس سے باہمی تجارت، ترقی اور ٹیکنالوجی میں پیش رفت کو تقویت ملے گی۔