ابوظہبی، 24 ستمبر، 2025 (وام)--ایکنومسٹ امپیکٹ کی تیار کردہ اور الزائمر تحقیق و اختراع میں معروف کمپنی ایلی لِلی کے کمیشن پر شائع ہونے والی رپورٹ نے یو اے ای کی الزائمر کے انتظام میں کوششوں کو اجاگر کیا ہے اور عالمی صحت میں ملک کے قائدانہ کردار کو مضبوط بنانے کیلئے آئندہ اقدامات بتائے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 55 ملین سے زائد افراد ڈیمنشیا کا شکار ہیں، جن میں زیادہ تر کیسز الزائمر کے ہیں۔ یو اے ای نے بڑھتی عمر اور طویل اوسط عمر کے باعث بڑھتے بوجھ سے نمٹنے کیلئے پیشگی اور جامع اقدامات کیے ہیں، جن میں وزارتِ صحت و تحفظِ معاشرہ (موہاپ) اور فلاحی ادارہ “4-گِٹ-می-ناٹ” کی آگاہی مہمات شامل ہیں۔ مزید یہ کہ عالمی ادارۂ صحت نے 2015 میں شارقہ کو مشرقِ وسطیٰ کا پہلا “عمر دوست” عرب شہر تسلیم کیا، جو صحت مند بڑھاپے کی بہترین مثال کے طور پر سامنے آیا۔
رپورٹ نے سفارش کی ہے کہ صحت کے ڈھانچے اور پالیسی میں قیادت برقرار رکھنے اور الزائمر کے مریضوں کے نتائج بہتر بنانے کیلئے تین پہلوؤں پر سرمایہ کاری بڑھائی جائے: اول، الزائمر کے لیے مخصوص قومی پالیسی یا منصوبہ، جس میں حکومت، صنعت، جامعات، مریض اور نگہداشت کرنے والے سب شریک ہوں تاکہ مربوط اور شواہد پر مبنی ردِ عمل ممکن ہو۔ دوم، طبّی عملے خصوصاً پرائمری کیئر فراہم کنندگان کی تربیت و مہارت میں اضافہ کیا جائے تاکہ مریضوں کیلئے واضح راستہ بنے اور بروقت تشخیص و مداخلت ہو سکے۔ سوم، عوامی آگاہی میں مزید سرمایہ کاری کی جائے تاکہ بدنامی اور غلط فہمیاں کم ہوں، لوگ ابتدائی علامات پہچان سکیں اور بروقت مدد حاصل کریں۔
ایلی لِلی مشرق وسطیٰ و ترکیہ کی صدر و جنرل مینیجر روبیرتا مارینیلی نے کہا کہ، “سائنس میں پیش رفت نے الزائمر کی تشخیص اور علاج کے طریقے بدل دیے ہیں اور دیکھ بھال زیادہ مؤثر ہوئی ہے، مگر ان کامیابیوں کا پورا فائدہ تب ہوگا جب شراکتی حکمتِ عملی کے ذریعے یہ مریضوں تک پہنچیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ، “ایلی لِلی کی 35 سالہ پیش رو تحقیق کا سبق یہی ہے کہ مل کر چلیں تو پیش رفت تیز ہوتی ہے۔ یو اے ای کی صحت برادری کے ساتھ شراکت میں ہم ایسے معیار قائم کرنا چاہتے ہیں جو نہ صرف مقامی نگہداشت بدلیں بلکہ عالمی عمل کو بھی رہنمائی دیں۔”
“چینجنگ دی نیریٹو: الزائمرز ڈیزیز اِن دی یو اے ای” کے عنوان سے یہ رپورٹ ابوظہبی برین کانفرنس کے 5ویں ایڈیشن میں جاری کی گئی، جہاں دماغی صحت کے بین الاقوامی ماہرین نے جدت پر گفتگو کی۔ رپورٹ میں پالیسی تبدیلی، اختراع اور مربوط نگہداشت کے ماڈلز کی سمت واضح کی گئی ہے اور یو اے ای کیلئے ایک شواہد پر مبنی روڈ میپ پیش کیا گیا ہے، جس سے ملک کی صحت میں قائدانہ حیثیت مزید مضبوط ہوگی اور الزائمر سے نمٹنے کے عالمی طریقوں کو نئی سمت ملے گی۔