اقوام متحدہ اجلاس کے موقع پر امارات کی میزبانی میں "یوتھ ڈائیلاگ"، دنیا بھر کے نوجوان رہنماؤں کی شرکت

نیویارک، 25 ستمبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ’’یوتھ ڈائیلاگ‘‘ ایونٹ کی میزبانی کی، جس میں نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان بھی شریک ہوئے۔ یہ اجلاس وزارتِ خارجہ کے زیرِ اہتمام امارات کے اقوام متحدہ مشن میں منعقد ہوا۔

تقریب میں دنیا بھر سے 40 نوجوان مندوبین نے شرکت کی، جن میں طلبہ اور امریکہ میں مقیم اماراتی نوجوان بھی شامل تھے۔ شرکاء نے اپنے اپنے معاشروں کو درپیش بڑے چیلنجز پر گفتگو کی۔ مباحثے میں ماحولیاتی تبدیلی اور انصاف، امن و تنازعات کی روک تھام، تعلیم اور ہنر تک مساوی رسائی، اور ڈیجیٹل خلیج ختم کرنے کے موضوعات شامل تھے۔

یہ اجلاس متحدہ عرب امارات کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ نوجوانوں پر مرکوز مکالمہ، شمولیتی اقدامات اور کثیرالجہتی تعاون کو فروغ دیا جائے۔ یہ ’’یوتھ ڈائیلاگ‘‘ برازیل میں جولائی 2025 کے برکس سمٹ کے دوران ہونے والے پہلے اجلاس کی کامیابی کے بعد منعقد ہوا اور اس نے امارات کو شمولیتی اور بین النسلی سفارت کاری کے عالمی مرکز کے طور پر مزید مستحکم کیا۔

شیخ عبداللہ بن زاید نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ امارات نوجوانوں کو آواز دینے والے پلیٹ فارمز قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان صرف مستقبل کے رہنما نہیں بلکہ آج کے رہنما ہیں، جو جرات، تخلیقی صلاحیت اور مقصد کی وضاحت کے ساتھ دنیا کے بڑے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کی آواز عالمی مسائل کے پائیدار حل کے لیے ناگزیر ہے۔

اجلاس کے دوران ایک خصوصی سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں وزیرِ مملکت برائے بین الاقوامی تعاون ریِم بنت ابراہیم الہاشمی، وزیرِ مملکت برائے امورِ نوجوان ڈاکٹر سلطان النیادی، اور وزارتِ خارجہ کے معاون وزیر عمران شرف شریک ہوئے۔ اس سیشن کی نظامت وزارتِ خارجہ کی اسٹریٹجک کمیونیکیشنز ڈپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر عفراء الحمیلی نے کی۔

ریِم الہاشمی نے کہا کہ نوجوان ماحولیاتی اقدامات، قیامِ امن، ڈیجیٹل جدت اور سماجی ترقی جیسے شعبوں میں پہلے ہی قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ عالمی فیصلوں میں کم نمائندگی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امارات کا یقین ہے کہ بین الاقوامی تعاون کو نوجوانوں کی اصل صورتحال اور تجربات کی عکاسی کرنی چاہیے، خصوصاً ان خطوں کے نوجوانوں کی جو سب سے زیادہ متاثر ہیں۔

مباحثے کا مقصد نچلی سطح سے نوجوانوں کے خیالات کو سامنے لا کر انہیں پالیسی سازی میں شامل کرنا تھا۔ امارات ان آوازوں کو آئندہ کثیرالجہتی فورمز میں اجاگر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ ثابت کیا جا سکے کہ شمولیت صرف اخلاقی تقاضا نہیں بلکہ مؤثر سفارت کاری کے لیے ایک اسٹریٹجک ضرورت بھی ہے۔

اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ نوجوانوں کو صرف مشاورت تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں فعال شراکت دار کے طور پر عالمی حلوں کی تشکیل میں شامل کیا جائے۔ ’’یوتھ ڈائیلاگ‘‘ سیریز امارات کی وسیع تر سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد خطوں کے درمیان تعلقات مضبوط بنانا، باہمی سمجھ بوجھ بڑھانا اور نوجوانوں کی عالمی سطح پر نمائندگی کو تقویت دینا ہے۔ امارات آئندہ بھی نوجوان قیادت اور شمولیتی مکالمے کو کثیرالجہتی نظام کے بنیادی ستون کے طور پر فروغ دیتا رہے گا۔