جنیوا، 25 ستمبر، 2025 (وام)--ڈاکٹر فاطمہ الکعبی کی زیرِ صدارت یونین ایسوسی ایشن فار ہیومن رائٹس (UAHR) نے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے 60ویں اجلاس کے دوران اپنی بین الاقوامی موجودگی کو مزید مضبوط کیا۔ اس موقع پر تنظیم نے 46 بیانات پیش کیے، جن میں 25 تحریری اور 21 زبانی تھے، جبکہ کئی بین الاقوامی سیمینارز اور نمائشوں کا انعقاد بھی کیا۔
ایسوسی ایشن نے امارات میگزین برائے انسانی حقوق کے چوتھے ایڈیشن کو عربی، انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں جاری کیا، ساتھ ہی ایک خصوصی سپلیمنٹ بھی شائع کیا جس میں بچوں کی جانب سے امن اور رواداری پر بنائی گئی تصویریں شامل ہیں۔ مزید برآں، تنظیم نے اپنی نئی سرکاری ویب سائٹ بھی متعارف کرائی تاکہ ڈیجیٹل موجودگی کو مزید وسعت دی جا سکے۔
اپنے بیانات میں ایسوسی ایشن نے متحدہ عرب امارات کے ان اقدامات کو اجاگر کیا جو عالمی انسانی حقوق اور ترقیاتی ترجیحات کو آگے بڑھانے میں معاون ہیں۔ ان میں مسلح تنازعات میں شہریوں کا تحفظ، خوراک کا حق اور پائیدار ترقی، دہشت گردی و انسانی اسمگلنگ کے خلاف اقدامات، مزدوروں کے حقوق، صنفی مساوات، بچوں اور خصوصی افراد کے حقوق، صحت و تعلیم، سماجی انصاف، پانی کے وسائل کا انتظام، ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات اور ڈیجیٹل اختراع و مصنوعی ذہانت کا استعمال شامل ہیں۔
اس موقع پر ایسوسی ایشن نے جنیوا پریس کلب میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا جس کا عنوان تھا: ’’امارات میں انسانی حقوق: سفر اور قیادت‘‘، جس میں ملک کی رواداری اور حقوق کے تحفظ کے عزم کو اجاگر کیا گیا۔ ایک دوسرا سیمینار بھی منعقد کیا جائے گا جس کا موضوع،’’کثیرالجہتی نظام کا بحران اور تحفظ کی ضرورت — مسلح تنازعات میں انسانی حقوق‘‘ ہوگا جس میں اقوام متحدہ سے منسلک بین الاقوامی ادارے بھی شریک ہوں گے۔
علاوہ ازیں، ایسوسی ایشن تین نمائشوں کی میزبانی بھی کر رہی ہے جن میں ڈیجیٹل دنیا میں نجی زندگی اور تحفظ، دنیا بھر میں امارات کی انسانی ہمدردی کی کوششیں، اور امارات میں انسانی حقوق جیسے موضوعات شامل ہیں۔