ابوظہبی، 25 ستمبر، 2025 (وام)--محمد بن زاید ہیومینیٹی فاؤنڈیشن نے ابوظہبی میں قائم اسپیشل اولمپکس گلوبل سینٹر فار انکلوژن اِن ایجوکیشن کو 11 ملین امریکی ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔جس کے مطابق یونیفائیڈ چیمپیئن اسکولز (UCS) پروگرام کو مزید وسعت دی جا سکے گی۔ یہ پروگرام ذہنی معذوری کے ساتھ اور بغیر نوجوانوں کے لیے سماجی شمولیت کو فروغ دینے کا ایک اہم اقدام ہے۔
یہ گرانٹ یونیفائیڈ چیمپیئن اسکولز کو 10 نئے ممالک تک پھیلانے میں مدد دے گی، جو پہلے سے 152 ممالک کے نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ اس کے ذریعے دنیا بھر میں 6 ہزار سے زائد اساتذہ، کوچز اور رہنماؤں کو شمولیتی تعلیم کی تربیت دینے کے لیے ایک پروفیشنل ڈویلپمنٹ پلیٹ فارم بھی بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ، کورپس آف انکلیوسِو ایجوکیٹرز کو وسعت دی جائے گی تاکہ عالمی سطح پر اساتذہ اور اسکول رہنماؤں کو معاونت اور تربیت فراہم کی جا سکے۔
یہ سینٹر ابوظہبی میں قائم ہے اور 2020 میں صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی 25 ملین ڈالر کی عطیہ کردہ رقم سے قائم ہوا، جو 2019 کے اسپیشل اولمپکس ورلڈ گیمز ابوظہبی کی میراث ہے۔
یہ نیا عزم نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایک تقریب میں ظاہر کیا گیا۔ تقریب میں امارات کے امریکہ میں سفیر یوسف العتیبہ، یو اے ای ایڈ ایجنسی کے چیئرمین ڈاکٹر طارق العامری، فاؤنڈیشن کی قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر شمہ خلیفہ المزروعی اور اسپیشل اولمپکس انٹرنیشنل بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر ٹموتھی شریور شریک تھے۔ افتتاحی خطاب وزیرِ خاندان ہز ہائی نس سناء بنت محمد سہیل نے کیا۔
اس موقع پر یوسف العتیبہ نے کہا کہ امارات اپنی قیادت کی ہدایت کے تحت ایسے معاشرے بنانے کے لیے پرعزم ہے جہاں ہر صلاحیت کے نوجوانوں کو بااختیار بنایا جائے۔ ڈاکٹر شمہ المزروعی کے مطابق یہ شراکت داری امارات کے اس یقین کی عکاسی کرتی ہے کہ شمولیتی تعلیم زندگیاں اور معاشرے بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر ٹموتھی شریور نے کہا کہ یہ اقدام اس بات کی جراتمندانہ توثیق ہے کہ شمولیت خیرات نہیں بلکہ ایک تبدیلی ہے۔
یونیفائیڈ چیمپیئن اسکولز پروگرام کھیلوں اور نوجوان قیادت کو استعمال کرتے ہوئے اسکولوں کو ایسے اداروں میں بدل دیتا ہے جہاں ہر طالب علم کی قدر اور عزت کی جاتی ہے۔ اب تک یہ پروگرام دنیا بھر میں 2,831 اسکولوں میں متعارف کرایا جا چکا ہے، جس سے 11 لاکھ نوجوان مستفید ہو چکے ہیں اور 19 ہزار سے زائد اساتذہ و کوچز کو تربیت دی گئی ہے۔
روانڈا کی ایک ایتھلیٹ پیٹینس اِرفاشا نے کہا، ’’یونیفائیڈ اسپورٹس میں شرکت نے میری زندگی بدل دی۔ میں نے ایسے دوست بنائے جن سے شاید کبھی نہ ملتی اور یہ سیکھا کہ ہم سب میں کچھ قیمتی ہے، چاہے ہماری صلاحیتیں مختلف ہی کیوں نہ ہوں۔‘‘
چین، یونان، مصر، بھارت، امریکہ اور کینیا میں یونیفائیڈ چیمپیئن اسکولز پروگرام کی جانچ پڑتال سے یہ ثابت ہوا ہے کہ شریک طلبہ کی سماجی و جذباتی صلاحیتوں میں بہتری، ریاضی اور پڑھائی میں بہتر نتائج، اور احساسِ شمولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ بھارت میں 86 فیصد اور کینیا میں تقریباً تمام طلبہ نے کہا کہ وہ خود کو زیادہ جُڑا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ یونان میں طلبہ 9 سے 16 گنا زیادہ صبر، ہمدردی اور دوسروں کے جذبات کو سمجھنے جیسی مہارتیں سیکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔