العین، 25 ستمبر 2025 (وام) — جنرل ویمنز یونین (GWU) نے ’’پروڈکٹیو فیملیز‘‘ کے لیے دنیا کا پہلا سرکاری روزگار پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت باقاعدہ ماہانہ تنخواہ اور مکمل ملازمت کے فوائد فراہم کیے جائیں گے۔ یہ انقلابی اقدام ’’مدر آف دی نیشن کا 50:50 وژن‘‘ کا حصہ ہے، جو 2075 تک کے لیے مرتب کیا گیا ہے اور خواتین کے سماجی و معاشی کردار کو مزید مستحکم بنانے پر مرکوز ہے۔
یہ اعلان ’’کری ایٹوز پاتھ پروگرام‘‘ کے دوسرے ایڈیشن کے افتتاح کے موقع پر العین میں کیا گیا۔ یہ پروگرام مادر ملت، جنرل ویمن یونین کی چیئر وومن، سپریم کونسل برائے زچگی اور بچپن کی صدر، اور فیملی ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کی سپریم چیئر وومن شیخہ فاطمہ بنت مبارک کے وژن کا عملی عکس ہے، جس کا مقصد اماراتی خواتین کی مختلف شعبوں میں شراکت بڑھانا ہے۔
اس نئے اقدام کے تحت پروڈکٹیو فیملیز کو ’’سرکاری ملازمین‘‘ کا درجہ دیا جائے گا، جنہیں ماہانہ تنخواہ کے ساتھ ساتھ ان مصنوعات کی فروخت سے حاصل ہونے والے منافع میں بھی حصہ ملے گا جو جنرل ویمنز یونین کے مرکز برائے روایتی صنعت و دستکاری میں فراہم کی جائیں گی۔ اس پروگرام کے تحت خواتین کو ابوظہبی پنشن فنڈ میں بھی رجسٹر کیا جائے گا تاکہ انہیں بیمہ کوریج اور زیادہ محفوظ مستقبل حاصل ہو۔
شرکاء پر لازم ہوگا کہ وہ متعین کردہ معیار کے مطابق ہفتہ وار ایک مقررہ تعداد میں مصنوعات تیار کریں، تاہم انہیں روزانہ اوقاتِ کار یا دفتر حاضری کی پابندی نہیں ہوگی۔ اس طرح یہ پروگرام گھر پر مبنی اور تخلیقی کام کے لیے مکمل لچک فراہم کرتا ہے۔
جی ڈبلیو یو کی سیکرٹری جنرل نورة السویدی نے کہا کہ پروڈکٹیو فیملیز کے لیے دنیا کا پہلا سرکاری روزگار ماڈل متعارف کرانا شیخہ فاطمہ بنت مبارک کے اس اعتماد کی عکاسی کرتا ہے جو وہ اماراتی خواتین کی صلاحیتوں پر رکھتی ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف خاندانوں کے لیے مستحکم آمدنی فراہم کرتا ہے بلکہ قومی معیشت میں ادارہ جاتی اور پائیدار شراکت داری کے نئے دروازے بھی کھولتا ہے۔
اسٹریٹجک اور ڈویلپمنٹ امور کی سربراہ انجینئر غالیہ علی المنعائی نے کہا کہ یہ نیا روزگار طریقہ کار پروڈکٹیو فیملیز کو گھریلو ماحول میں لچکدار ڈھانچے کے ساتھ کام کا موقع فراہم کرتا ہے، جبکہ مکمل پیشہ ورانہ اور قانونی تحفظات بھی مہیا کرتا ہے، جن میں پنشن رجسٹریشن شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ منافع میں حصہ مختص کرنے سے حوصلہ افزائی بڑھتی ہے اور مصنوعات کے معیار میں بہتری آتی ہے، جو روایتی دستکاری کے تسلسل اور مارکیٹ میں مسابقت کے لیے ضروری ہے۔
یہ اقدام گھریلو اور تخلیقی معیشت کے فروغ میں ایک نئے باب کا آغاز ہے، جس کے ذریعے پروڈکٹیو فیملیز کو قومی اقتصادی سائیکل میں ادارہ جاتی بنیادوں پر شامل کیا جائے گا۔ یہ پروگرام امارات کی اسٹریٹجک پالیسیوں سے ہم آہنگ ہے جس کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا اور تخلیقی معیشت میں ان کے کردار کو وسعت دینا ہے۔
نمائش کے دوران ’’کری ایٹوز پاتھ پروگرام‘‘ کے تحت نئی مواقع بھی متعارف کرائے گئے، جن میں ثقافتی اور تخلیقی شعبوں میں اماراتی نوجوانوں کے لیے روزگار اور تربیتی مواقع شامل ہیں۔ یہ منصوبہ نجی شعبے کے تعاون سے اور اماراتی ٹیلنٹ کمپیٹیٹو نیس کونسل (نَفس) کے اشتراک سے نافذ کیا جا رہا ہے۔