دبئی، 28 ستمبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کا بینکاری شعبہ ڈیجیٹل سیکیورٹی کے میدان میں عالمی رہنما کے طور پر ابھرا ہے۔ صارفین کے لیے جدید ڈیجیٹل سہولتیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ یو اے ای کے بینکوں نے ڈیٹا پلیٹ فارمز، ایڈوانس اینالیٹکس اور مصنوعی ذہانت کے حلوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے تاکہ فراڈ کی بروقت روک تھام، ذاتی نوعیت کی خدمات اور بہتر صارف تجربہ یقینی بنایا جا سکے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، یو اے ای کا بینکاری نظام اس وقت ڈیجیٹل اختراع اور سائبر دفاع کے ایک نئے دور سے گزر رہا ہے۔ جدید انفراسٹرکچر اور لچکدار قانون سازی اس شعبے کو عالمی سطح پر مزید مضبوط بنا رہی ہے۔
روبریک کے ریجنل چیف انفارمیشن سیکیورٹی آفیسر رچرڈ کیسیڈی نے کہا کہ یو اے ای کا بینکاری شعبہ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے اگلے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت اور بگ ڈیٹا ڈیجیٹل سیکیورٹی حکمت عملیوں کی بنیاد بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق، بینک اب ایسے اے آئی ٹولز استعمال کر رہے ہیں جو حقیقی وقت میں مشکوک سرگرمیوں کو پکڑتے ہیں اور وسیع ڈیٹا کو تیزی سے تجزیہ کر کے ممکنہ فراڈ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن، بایومیٹرک ویریفکیشن اور ایپ بیسڈ لاگ ان سسٹمز نے صارفین کے تحفظ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
انفوبپ کے ڈائریکٹر زید شبيلات نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں یو اے ای بینکوں نے روایتی سیکیورٹی ماڈلز کو ترک کر کے جدید انٹیلی جنس اور اینالیٹکس پر مبنی نظام اپنایا ہے۔ آن لائن بینکنگ، فوری ادائیگیوں اور موبائل فرسٹ سروسز کے بڑھتے رجحان کے ساتھ خطرات میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس کے جواب میں بینکوں نے ریئل ٹائم فراڈ ڈیٹیکشن سسٹمز اور محفوظ ملٹی چینل کمیونیکیشن کو فعال کیا ہے تاکہ صارفین کو کسی بھی غیر معمولی سرگرمی سے فوری آگاہ کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت اور بگ ڈیٹا اب ان اقدامات کے ستون ہیں۔ سیکنڈوں میں مشکوک لین دین کی نشاندہی اور بڑے پیمانے پر فراڈ نیٹ ورکس کی نشاندہی انہی ٹیکنالوجیز کی بدولت ممکن ہو رہی ہے۔ کئی بینک پہلے ہی خودکار ڈیجیٹل اسسٹنٹس متعارف کرا چکے ہیں جو عام نوعیت کے فراڈ کیسز کو خود نمٹاتے ہیں اور پیچیدہ معاملات فوری طور پر ماہر ٹیموں تک پہنچا دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، یو اے ای میں موجود ریگولیٹری فریم ورک نے بھی اس جدت کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی کے نتیجے میں بینک روایتی ایس ایم ایس یا ای میل کوڈز سے آگے بڑھ کر ایپ بیسڈ اور بایومیٹرک تصدیقی نظام اپنا رہے ہیں۔ مستقبل میں بیہیویئرل بایومیٹرک ویریفکیشن اور صارف دوست انٹرایکٹو ماڈلز کے ذریعے یہ نظام مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یو اے ای بینکس فیڈریشن نے 2017 میں "تشا رُک" نامی سائبر تھریٹ انٹیلی جنس شیئرنگ پلیٹ فارم شروع کیا تھا، جس کے تحت بینک ایک دوسرے کے ساتھ سائبر حملوں کے واقعات اور تحقیقات کے نتائج شیئر کرتے ہیں تاکہ ممکنہ خطرات کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔