مونٹریال، کینیڈا، 28 ستمبر 2025 (وام) --متحدہ عرب امارات نے شیخ محمد بن راشد المکتوم گلوبل ایوی ایشن ایوارڈ کے تیسرے ایڈیشن کے فاتحین کا اعلان کیا ہے۔ اس ایوارڈ کی کل انعامی رقم ایک ملین امریکی ڈالر رکھی گئی ہے۔
امارات کے وزیر معیشت و سیاحت اور جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی (GCAA) کے چیئرمین عبداللہ بن طوق المری نے کہا کہ یہ ایوارڈ تحقیق اور اختراع کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ نوجوان ٹیلنٹ اور تحقیقی اداروں کو پائیدار حل نکالنے کی تحریک دیتا ہے، جو عالمی سول ایوی ایشن کے مستقبل کو شکل دیں گے۔
جی سی اے اے کے ڈائریکٹر جنرل سیف محمد السویدی نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم اس تقریب کے ذریعے دنیا کے ایوی ایشن رہنماؤں کے سامنے جدت کاروں کو متعارف کروا رہے ہیں۔ یہ ایوارڈ امارات کے اس عالمی کردار کی عکاسی کرتا ہے جو ہوا بازی کی صنعت کی معاونت اور پائیداری کو فروغ دینے میں پیش پیش ہے۔
اکیڈمک ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کیٹیگری میں برازیل، امریکہ اور قازقستان کی یونیورسٹیوں نے کامیابی حاصل کی جبکہ تحقیقی اداروں کی کیٹیگری میں جرمنی کا ڈوئچ ایروسپیس سینٹر (DLR) فاتح قرار پایا۔
یہ ایوارڈ 2016 میں متعارف ہوا اور ہر تین سال بعد انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (ICAO) کے تعاون سے منعقد کیا جاتا ہے۔ اس سال اس کا محور پائیدار تحقیق و ترقی رہا، خاص طور پر سستین ایبل ایوی ایشن فیول پر، تاکہ 2050 تک کاربن نیوٹرل اہداف کے عالمی کوششوں سے ہم آہنگ رہا جا سکے۔
امارات نے آئی سی اے او کی 42ویں جنرل اسمبلی میں نمایاں شرکت کی اور عبداللہ المری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہوا بازی صرف نقل و حمل کا ذریعہ نہیں بلکہ اقوام کے درمیان رابطے اور کھلے پن کی علامت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات 189 فضائی معاہدوں پر دستخط کر چکا ہے، جن میں سے 80 فیصد سے زائد مکمل طور پر آزاد ہیں، جو مشترکہ خوشحالی کے لیے "اوپن اسکائز" پر یقین کی عکاسی کرتا ہے۔
امارات نے پائیداری کے لیے بڑے اقدامات کیے ہیں، جن میں سستین ایبل ایوی ایشن فیول روڈمیپ، CORSIA ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور گلوبل سستین ایبل ایوی ایشن مارکیٹ پلیس (GSAM) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انسانی وسائل کی ترقی کے لیے بھی کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایوی ایشن سیکٹر میں مہارت بڑھائی جا سکے۔
بعد ازاں، امارات نے مونٹریال میں اپنی سرکاری استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا، جس میں مختلف ممالک کے وزرا، سول ایوی ایشن ڈائریکٹرز اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔ یہ تقریب بیک وقت ثقافتی اور رسمی رنگ لیے ہوئے تھی۔