شیخ خالد بن محمد بن زاید کی زیر صدارت اجلاس، شہری سہولتوں اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے 42 ارب درہم کے منصوبوں کی منظوری

ابوظہبی، 29 ستمبر، 2025 (وام)--ابوظہبی کے ولی عہد اور ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان نے کہا کہ اماراتی قیادت شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کمیونٹی سروسز اور رہائشی علاقوں میں بنیادی سہولتوں کو جدید بنانے پر مسلسل کام کر رہی ہے۔

ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے تاکہ سماجی ہم آہنگی کو مزید مستحکم کیا جا سکے اور ملک کی ترقی کے سفر کو تقویت دی جا سکے۔

اجلاس میں لائیویبلیٹی اسٹریٹجی کے توسیعی مرحلے کی منظوری دی گئی، جس پر 42 ارب درہم کی لاگت آئے گی۔ اس کے تحت ایسے منصوبے شروع کیے جائیں گے جو اعلیٰ معیار کے مطابق بنیادی سہولتوں تک آسان رسائی فراہم کر کے معیارِ زندگی کو مزید بہتر بنائیں گے۔

ابتدائی مرحلے کے نتائج کے مطابق 2025 میں رہائشی محلوں کا اوسط انضمام 81 فیصد تک پہنچ گیا، جو 2023 میں اسٹریٹجی کے آغاز سے قبل 67 فیصد تھا۔ اب تک 12 ارب درہم مالیت کے 60 سے زائد منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جن میں 200 سے زیادہ پارک اور اسپورٹس کورٹ، 24 اسکول، 21 مساجد، 28 کمیونٹی مجالس، 120 کلومیٹر واکنگ ٹریک، 283 سائیکلنگ ٹریک، 220 کلومیٹر اسٹریٹ لائٹس اور 200 بیوٹیفیکیشن پروجیکٹس شامل ہیں۔

اجلاس میں ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ انیبلمنٹ – ابوظہبی کی جانب سے پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں سرکاری اور نجی اداروں کے اشتراک سے مصنوعی ذہانت کو سرکاری خدمات میں ضم کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔

شیخ خالد کو ابوظہبی گورنمنٹ ڈیجیٹل اسٹریٹجی 2025-2027 کے بارے میں آگاہ کیا گیا، جس کا مقصد 2027 تک ابوظہبی کو دنیا کی پہلی اے آئی پاورڈ حکومت بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے 13 ارب درہم کی سرمایہ کاری مختص کی گئی ہے۔

مزید برآں، انہیں ٹم 4.0 پلیٹ فارم کے اجرا پر بھی بریفنگ دی گئی جو جائٹیکس گلوبل 2025 میں متعارف کرایا جائے گا۔ یہ پلیٹ فارم اسمارٹ، مربوط اور مصنوعی ذہانت پر مبنی سرکاری خدمات فراہم کرے گا جو افراد اور کاروبار کی ضروریات کو پیشگی اندازہ لگا کر پورا کرے گا۔

اجلاس میں اے آئی مجالس پروگرام کے آغاز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس کا مقصد معاشرے میں مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کے بارے میں شعور اجاگر کرنا اور مکالمے کے لیے کھلی فضا فراہم کرنا ہے۔

ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ انیبلمنٹ نے بتایا کہ ابوظہبی حکومت کے 95 فیصد سے زیادہ ملازمین کو اے آئی سے متعلق جامع تربیت دی جا چکی ہے۔ مزید یہ کہ ہر سرکاری ادارے میں چیف ڈیجیٹل اینڈ اے آئی آفیسر کے عہدے تخلیق کیے جائیں گے تاکہ مصنوعی ذہانت کے فروغ اور حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔

شیخ خالد بن محمد نے زور دیا کہ ابوظہبی میں پیداواریت، کارکردگی اور عوامی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ رہائشی انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر کام کو مزید تیز کیا جائے تاکہ شہریوں اور رہائشیوں کے معیارِ زندگی میں مزید بہتری لائی جا سکے۔