شیخہ فاطمہ بنت مبارک کی سرپرستی میں "شی پاورز افریقہ" اقدام کا آغاز

نیویارک، 29 ستمبر، 2024 (وام)--اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں "شی پاورز افریقہ" اقدام کا آغاز کیا گیا، جو ام الامارات اور جنرل ویمنز یونین کی چیئرپرسن، سپریم کونسل برائے زچگی اور بچپن کی صدر، اور فیملی ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن کی سپریم چیئر وومن شیخہ فاطمہ بنت مبارک کی سرپرستی میں عمل میں آیا۔

یہ اقدام گلوبل کونسلز فار سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ گولز کے فریم ورک کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد پائیدار ترقی کے ہدف نمبر 5 یعنی صنفی توازن کے فروغ میں مدد فراہم کرنا ہے۔

اسٹریٹجک شراکت داری کے تحت یہ اقدام متحدہ عرب امارات اور مملکت ایسواتینی کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے، جس کا مقصد افریقی براعظم میں خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانا، ڈیجیٹل شمولیت کو آگے بڑھانا اور خواتین کی قیادت کو مضبوط کرنا ہے۔

افتتاحی تقریب میں کنگ مسواتی سوئم آف ایسواتینی، وزیر مملکت عزت مآب شیخ شخبوت بن نھیان النہیان، ایسواتینی کی وزیر اطلاعات و مواصلات اور گلوبل کونسل برائے ہدف 5 کی چیئرپرسن ساوانا مازیا، جنرل ویمنز یونین کی سیکریٹری جنرل نورا خلیفہ السویدی اور فیڈرل کمپیٹیٹیونیس اینڈ اسٹیٹسٹکس سینٹر کی ڈائریکٹر حنان منصور اہلی سمیت مختلف ممالک کے وفود اور بین الاقوامی ماہرین شریک ہوئے۔

یہ اقدام ایسواتینی میں 18 سے 35 سال کی عمر کی خواتین اور لڑکیوں کو مستقبل کے ہنر سکھانے پر مرکوز ہے، جن میں مصنوعی ذہانت، سائنس و ٹیکنالوجی، ماحولیاتی اختراع اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل سیفٹی، سائبر سیکیورٹی اور صنفی بنیادوں پر آن لائن تشدد کے انسداد کے حوالے سے بھی آگاہی دی جائے گی۔

"شی پاورز افریقہ" اقدام کا مقصد جنوب-جنوب تعاون کو مزید مضبوط بنانا اور ایک ایسا ماڈل تیار کرنا بھی ہے جسے دیگر افریقی ممالک میں بھی اپنایا جا سکے۔

وزیر مملکت شیخ شخبوت نے کہا کہ یہ اقدام اس یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانا دراصل پورے معاشرے کو طاقتور بنانے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق اماراتی خواتین آج سائنسدان، سفارتکار، کاروباری رہنما اور تبدیلی کے علمبردار ہیں اور ان کا قومی تجربہ دنیا بھر کی خواتین کے لیے ایک مثال ہے۔

نورا خلیفہ السویدی نے کہا کہ یہ اقدام شیخہ فاطمہ بنت مبارک کے وژن کا عملی اظہار ہے، جنہوں نے 1975 میں جنرل ویمنز یونین کے قیام کے ساتھ ہی خواتین کو بااختیار بنانے کا پہلا قومی میکنزم متعارف کرایا تھا، جس نے خواتین کو ناخواندگی سے قیادت اور مقامی شمولیت سے عالمی اثر و رسوخ تک پہنچایا ہے۔