آستانہ میں 'ڈیجیٹل بریج 2025' فورم، اماراتی وزیر عمر سلطان العلماء کی شرکت

آستانہ، 3 اکتوبر، 2025 (وام)-- جمہوریہ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف کی سرپرستی اور موجودگی میں ’’ڈیجیٹل بریج 2025‘‘ فورم قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں منعقد ہوا، جس میں متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور ریموٹ ورک ایپلیکیشنز عمر سلطان العلماء نے شرکت کی۔

انہوں نے فورم کے دوران منعقدہ مشاورتی کونسل برائے مصنوعی ذہانت کے اجلاس میں بھی حصہ لیا، جس میں دنیا بھر سے سرکاری عہدیداران اور مصنوعی ذہانت و ڈیجیٹل تبدیلی کے ماہرین شریک ہوئے۔

اپنے خطاب میں عمر سلطان العلماء نے کہا کہ مصنوعی ذہانت طرزِ حکمرانی میں انقلابی تبدیلیاں لانے اور سرکاری و نجی اداروں کی کارکردگی میں بہتری پیدا کرنے کا بنیادی ستون ہے، جس کے مثبت اثرات براہِ راست معاشروں کی فلاح و بہبود پر مرتب ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے اپنی قیادت کی ہدایات کے تحت ایک جامع قومی مصنوعی ذہانت حکمتِ عملی اپنائی ہے، جس کے ذریعے ملک نے مصنوعی ذہانت کو ترقی کا کلیدی محرک بنا کر مستقبل کی ٹیکنالوجیز کا عالمی مرکز بننے کا ہدف حاصل کیا ہے۔

اماراتی وزیر نے متحدہ عرب امارات اور قازقستان کے درمیان مضبوط تعاون اور اسٹریٹجک شراکت داری کو سراہا، جس سے ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے پائیدار مستقبل کے مواقع بڑھتے ہیں۔ انہوں نے قازقستان کے عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے میدان میں پیش خیمہ کردار کی بھی تعریف کی، جو سائنسی تحقیق، طرزِ حکمرانی، ٹیکنالوجی کی تیز رفتار اپنائیت اور نقل و حرکت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کا مشترکہ وژن انسانی صلاحیتوں کی ترقی اور مصنوعی ذہانت کے منصوبوں میں اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔

’’ڈیجیٹل بریج 2025‘‘ فورم، جو قازقستان کا نمایاں ترین بین الاقوامی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم ہے، 2 تا 4 اکتوبر آستانہ میں جاری ہے۔ اس میں 67 ہزار سے زائد شرکاء، 100 سے زیادہ ممالک کے ایک ہزار مقررین، 500 سے زائد اسٹارٹ اپس اور اتنی ہی تعداد میں سرمایہ کار و کاروباری شخصیات شریک ہیں۔ فورم کے مختلف موضوعات میں مصنوعی ذہانت، بلاک چین، ہیلتھ ٹیک، ایجو ٹیک، آئی او ٹی، اے آر اور وی آر، ایگرو ٹیک، سائبر سیکیورٹی، ای کامرس اور اسپیس ٹیک شامل ہیں۔

امارات اور قازقستان کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات قائم ہیں۔ گزشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان 22 دو طرفہ معاہدوں پر دستخط ہوئے جن کی مالیت 5 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔ ان میں تجارت، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبے شامل ہیں، اور امارات قازقستان کا سب سے بڑا عرب تجارتی شراکت دار ہے۔

دونوں ممالک مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اطلاقات کو وسعت دینے کے لئے یکساں عزائم رکھتے ہیں۔ قازقستان نے حال ہی میں وزارتِ مصنوعی ذہانت قائم کی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات اس میدان میں خطے کی پہلی قومی مصنوعی ذہانت حکمتِ عملی متعارف کرا چکا ہے۔ دونوں ممالک جدید ٹیکنالوجیز، بشمول جنریٹیو اے آئی، استعدادِ کار میں اضافہ، اور ضابطہ جاتی و اخلاقی فریم ورکس کی تشکیل میں اعلیٰ سطحی شراکت داری کے خواہاں ہیں تاکہ پائیدار ترقی کو فروغ دیا جا سکے اور ایک مشترکہ ڈیجیٹل مستقبل تعمیر کیا جا سکے جو دونوں ممالک، خطے اور عالمی برادری کے لئے فائدہ مند ہو۔