ابوظہبی چیمبر کا امریکی ریاستوں نارتھ کیرولائنا اور ٹیکساس کے کاروباری اداروں سے تعاون کے معاہدے

نیویارک، 3 اکتوبر، 2025 (وام)--ابوظہبی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ریاستہائے متحدہ امریکا کے دورے پر موجود ابوظہبی کی اقتصادی وفد کے حصے کے طور پر نارتھ کیرولائنا چیمبر آف کامرس اور ٹیکساس ایسوسی ایشن آف بزنس کے ساتھ دو تعاون معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔

ان معاہدوں کا مقصد ابوظہبی کی کاروباری برادری کے لئے نئے مواقع پیدا کرنا، امریکی منڈی میں اماراتی نجی شعبے کی موجودگی کو مستحکم بنانا اور سرمایہ کاری و اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔ یہ اقدامات ابوظہبی چیمبر کے 2025 تا 2028 روڈ میپ کے اہداف کے مطابق ہیں۔

پہلا معاہدہ نارتھ کیرولائنا چیمبر آف کامرس کے ساتھ کیا گیا، جس کا مقصد مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینا، اماراتی اور امریکی کمپنیوں کی نمائشوں اور اقتصادی فورمز میں شرکت کو آسان بنانا اور دونوں ممالک میں سرمایہ کاری کے ماحول اور تجارتی ضوابط سے متعلق معلومات کے تبادلے کو تقویت دینا ہے۔ معاہدے کے تحت ورچوئل ایونٹس کا انعقاد، وفود کے باہمی تبادلے، نارتھ کیرولائنا میں سرمایہ کاری کرنے والی اماراتی کمپنیوں کا ایک اندراجی ریکارڈ قائم کرنا، تکنیکی و تربیتی مہارت کے تبادلے اور تجارتی و اقتصادی وفود کو ہمہ جہت معاونت فراہم کرنے کی شقیں بھی شامل ہیں۔

دوسرا معاہدہ ٹیکساس ایسوسی ایشن آف بزنس کے ساتھ طے پایا، جو ابوظہبی اور ٹیکساس کی کاروباری برادریوں کے درمیان تجارتی اور صنعتی تعاون کو وسعت دینے پر مرکوز ہے۔ اس کے تحت اقتصادی معلومات کا تبادلہ، کارپوریٹ نیٹ ورکنگ میں سہولت، مشترکہ تقریبات کا انعقاد، نمائشوں اور فورمز میں شرکت، اور جدت و کاروباری اختراعات کو فروغ دینا شامل ہے۔ معاہدے میں جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال اور علم کے تبادلے کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

دونوں فریقین نے دانشورانہ املاک کے حقوق کے تحفظ اور باہمی معلومات کی رازداری کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اس موقع پر ابوظہبی چیمبر کے دوسرے نائب چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر شمس الظاہری نے کہا کہ یہ شراکت داریاں چیمبر کے 2025 تا 2028 روڈ میپ پر عمل درآمد کی عکاس ہیں، جس میں نجی شعبے کو بااختیار بنانا، جدت کو فروغ دینا اور قومی کمپنیوں کی عالمی موجودگی کو بڑھانا ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نارتھ کیرولائنا چیمبر اور ٹیکساس بزنس ایسوسی ایشن کے ساتھ تعاون ابوظہبی کی پوزیشن کو ایک عالمی اقتصادی مرکز کے طور پر مزید مستحکم کرے گا اور اماراتی کمپنیوں کو نئی منڈیوں تک رسائی فراہم کرے گا تاکہ مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے قابل ایک جدید کاروباری ماحولیاتی نظام تشکیل دیا جا سکے۔