ابوظہبی، 5 اکتوبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات، پاکستان، اردن، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے نئی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ موقع جامع اور دیرپا امن کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
وزرائے خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تجویز کو سراہا جس کے تحت جنگ کے خاتمے، تمام یرغمالیوں (زندہ یا شہید) کی رہائی اور فوری مذاکرات کے آغاز کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے اسرائیل سے بمباری روکنے اور یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے پر عملدرآمد شروع کرنے کی اپیل کو بھی خوش آئند قرار دیا۔
وزرائے خارجہ نے حماس کی جانب سے غزہ کی انتظامیہ ایک عبوری فلسطینی کمیٹی کے حوالے کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے زور دیا کہ فوری مذاکرات کے ذریعے اس تجویز کے تمام پہلوؤں پر عملدرآمد کا طریقہ کار طے کیا جائے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ غزہ میں انسانی المیے کے خاتمے اور عوام تک بلا رکاوٹ امداد پہنچانے کے لیے جنگ کا فوری خاتمہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کسی صورت قبول نہیں، اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے جو شہریوں کی سلامتی کو نقصان پہنچائیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فلسطینی اتھارٹی کو غزہ میں واپس لایا جائے، غزہ اور مغربی کنارے کو متحد کیا جائے اور ایسا سیکیورٹی نظام وضع کیا جائے جو سب فریقین کے تحفظ کی ضمانت دے، جس کے نتیجے میں مکمل اسرائیلی انخلا، غزہ کی تعمیرِ نو اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ امن کا راستہ ہموار ہو۔