ابوظہبی، 5 اکتوبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات نے پائیدار ترقی کو قومی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون بنا کر صاف توانائی کے شعبے میں اپنی عالمی قیادت کو مزید مضبوط کیا ہے۔ ملک کی دانشمند قیادت کے دور اندیش وژن کے تحت 2050 تک نیٹ زیرو اخراج کے ہدف کی جانب نمایاں پیش رفت جاری ہے۔
قومی اداروں اور عالمی شراکت داروں کی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری نے امارات کو اس منزل تک پہنچنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ بین الاقوامی ماہرین توانائی کے مطابق صاف توانائی میں سرمایہ کاری اب صرف ترقیاتی ترجیح نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ضرورت ہے، جو پائیدار معاشی ترقی اور عالمی توانائی کے مستقبل کی تشکیل میں امارات کے کلیدی شراکت دار کے طور پر کردار کو مستحکم بناتی ہے۔
سیمنز یو اے ای اور مشرق وسطیٰ کے سی ای او ہیلمٹ فان شٹروو نے کہا کہ دنیا ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے جہاں قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کا فوری انضمام وقت کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، کاربن فری مستقبل کے لیے صرف قابلِ تجدید حل کافی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال بھی ناگزیر ہے، جو توانائی کے نظام کو بہتر بنانے، اخراج کم کرنے اور صاف توانائی کی فراہمی کو ممکن بناتا ہے۔
شٹروو نے امارات کے قابلِ تجدید توانائی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے میدان میں وژن اور عملی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈیٹا پر مبنی اور لچکدار ڈیجیٹل حل ہی اس رفتار کو برقرار رکھنے کا ذریعہ ہیں۔
شنیڈر الیکٹرک کے ایگزیکٹو نائب صدر فریڈرک گوڈمیل نے امارات کے صاف توانائی کے سفر کو ایک نئے دور کی شروعات قرار دیا جو جدت، لچک اور مشترکہ خوشحالی پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق امارات کا طویل المدتی نقطہ نظر — اسمارٹ ٹیکنالوجیز کے استعمال اور بین القطاعی تعاون — توانائی کو زیادہ مؤثر، قابلِ رسائی اور جامع بنا رہا ہے۔
الیکٹرک پاور ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے صدر اور سی ای او ارشد منصور کے مطابق امارات کے پاس صاف توانائی اور مصنوعی ذہانت کو یکجا کر کے نئے دور کی قیادت کرنے کی تمام صلاحیتیں موجود ہیں۔ انہوں نے براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ، محمد بن راشد آل مکتوم سولر پارک اور جی 42 جیسی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے کردار کو نمایاں مثال قرار دیا۔
امارات کی توانائی قیادت ایک جامع قومی فریم ورک پر مبنی ہے جس میں یو اے ای انرجی اسٹریٹجی 2050، براکہ پلانٹ کی کارکردگی اور نیشنل ہائیڈروجن اسٹریٹجی 2050 شامل ہیں۔ اس حکمتِ عملی کے تحت 2030 تک قابلِ تجدید توانائی کے حصے کو تین گنا بڑھانے اور 150 سے 200 ارب درہم کی قومی سرمایہ کاری کا ہدف رکھا گیا ہے تاکہ تیزی سے بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب پوری کی جا سکے۔
اہم منصوبے جیسے نور ابوظہبی سولر پاور پلانٹ — جو دنیا کا سب سے بڑا واحد سائٹ سولر پلانٹ ہے — اور مصدر سٹی — جو دنیا کے پائیدار ترین شہری منصوبوں میں سے ایک ہے — اس وژن کی عکاسی کرتے ہیں اور مستقبل کے صاف اور اسمارٹ شہروں کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔