وادی وریہ میں عربی لنکس کی واپسی، ماحول دوست اقدامات کی کامیابی کا ثبوت

فجیرہ، 6 اکتوبر، 2025 (وام)--امارات کی نیشنل ریڈ لسٹ میں انتہائی خطرے سے دوچار قرار دیا گیا عربی لنکس (Lynx caracal schmitzi) وادی وریہ نیشنل پارک میں ایک طویل عرصے بعد دوبارہ منظرِ عام پر آیا ہے۔ یہ اہم دریافت قومی حیاتیاتی تنوع اور قدرتی ماحول کے تحفظ کی جاری کوششوں میں ایک سنگ میل قرار دی جا رہی ہے۔

یہ جانور ’نوٹس نیچر‘ منصوبے کے تحت نصب موشن سینسر کیمروں میں قید ہوا۔ یہ اقدام مشرق بینک، فجیرہ انوائرمنٹ اتھارٹی اور ایمریٹس نیچر-ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تعاون سے جاری ہے۔ ہر مصدقہ ریکارڈ اس نایاب نسل کے بقا کے امکانات، مسکن کے تحفظ اور طویل مدتی حکمتِ عملی تیار کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

عربی لنکس کی دوبارہ موجودگی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ یہ نایاب شکاری اب بھی اپنے قدرتی ماحول میں پایا جاتا ہے، جو تحفظاتی پروگراموں اور محفوظ علاقوں کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔ اس سے قبل یہ نسل 2019 میں جبل حفیت، مارچ 2023 میں وادی شیص اور اب 2025 میں وادی وریہ میں ریکارڈ کی گئی ہے۔

مضبوط جسامت اور کانوں پر سیاہ بالوں کی جھالر کے باعث پہچانے جانے والا یہ جانور پہاڑی ماحولیاتی نظام میں توازن قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگرچہ یہ امارات اور عرب خطے کے پہاڑوں اور صحراؤں کا مقامی باشندہ ہے، لیکن اپنی پوشیدہ اور رات کو متحرک عادات کے باعث شاذ و نادر ہی نظر آتا ہے۔

جدید انفراریڈ ٹیکنالوجی سے لیس کیمروں نے دن اور رات دونوں وقت خودکار طور پر تصاویر محفوظ کیں۔ اس دریافت نے پارک میں شاذونادر نظر آنے والی حیاتِ وحش کی فہرست میں مزید اضافہ کیا ہے، جس میں بلینفورڈ لومڑی بھی شامل ہے۔

فجیرہ انوائرمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر برائے حیاتیاتی تنوع و قدرتی وسائل، ڈاکٹر علی حسن الحمودی نے کہا کہ لنکس کی دوبارہ موجودگی عالمی یومِ مسکن کے موقع پر اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ یہ محفوظ علاقہ نایاب انواع کے لیے پناہ گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے ایمریٹس نیچر-ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ساتھ طویل المدتی سائنسی پروگراموں کے ذریعے اس منفرد خطے کے تحفظ اور نگرانی کے عزم کو نمایاں کیا۔

ایمریٹس نیچر-ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر برائے بایو ڈائیورسٹی کنزرویشن، ڈاکٹر اینڈریو گارڈنر نے اس دریافت کو نایاب اور فوری توجہ طلب قرار دیا اور کہا کہ اگرچہ یہ مشاہدہ امید دلاتا ہے لیکن اس نسل کے تحفظ کے لیے مستقل اور سنجیدہ کوششیں ناگزیر ہیں۔