یو اے ای جینڈر بیلنس کونسل کا دوسرا اجلاس: صنفی توازن کے فروغ اور پائیدار ترقی کے لیے نئی حکمت عملیوں پر غور

دبئی، 9 اکتوبر 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کی جینڈر بیلنس کونسل کا 2025 کا دوسرا اجلاس سپریم کونسل برائے مادریت و طفولت کے ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوا، جس میں ملک میں صنفی توازن کے فروغ کے لیے وفاقی اداروں کی پیش رفت اور نئی منصوبہ بندی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کا مقصد تمام شعبوں میں صنفی توازن کو مضبوط بنانا اور عالمی سطح پر امارات کی پوزیشن کو بہتر کرنا تھا، جو قیادت کے وژن اور رہنمائی کے مطابق ہے۔

اجلاس میں وفاقی کابینہ کی جانب سے کونسل کے نئے اراکین کی منظوری کے بعد آئندہ منصوبوں پر بھی بات چیت کی گئی، تاکہ حکومتی اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

صدر جینڈر بیلنس کونسل، صدر دبئی ویمن اسٹیبلشمنٹ اور نائب صدر و نائب وزیراعظم شیخ منصور بن زاید النہیان کی اہلیہ شیخہ منال بنت محمد بن راشد المکتوم نے کہا کہ صنفی توازن کے فروغ کے لیے تمام سرکاری اداروں کی مشترکہ کوشش ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمت عملیوں کا ہم آہنگ ہونا اور اجتماعی پیش رفت ہی کامیابی کی بنیاد ہے۔

شیخہ منال بنت محمد نے کہاکہ، “ہم صنفی توازن کے فروغ کے لیے مستقبل پر مبنی پالیسیوں اور مؤثر منصوبوں کے ذریعے اپنے اہداف کو عملی شکل دینے کے لیے پرعزم ہیں۔”

نائب صدر جینڈر بیلنس کونسل مونا غانم المری کے مطابق وفاقی وزارتوں اور اداروں کی جانب سے پیش کی گئی حکمت عملی ایک شاندار مثال ہے کہ کس طرح حکومت نے اشتراک اور ہم آہنگی کے ذریعے ملک کے وژن کو آگے بڑھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی پالیسیوں اور منصوبوں سے نہ صرف ادارہ جاتی سطح پر صنفی توازن کو فروغ مل رہا ہے بلکہ کام کی جگہوں پر تنوع اور شمولیت کو بھی تقویت مل رہی ہے۔

مونا المری نے مزید کہا کہ یہ کوششیں خواتین کی معاشی شمولیت میں اضافہ، برابری کے مواقع کی فراہمی اور پائیدار ترقی کے لیے یو اے ای کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔ شیخہ منال بنت محمد بن راشد المکتوم کی قیادت میں کونسل علاقائی اور عالمی سطح پر مؤثر شراکت داریوں کو فروغ دے رہی ہے جو پائیدار اور ناپنے کے قابل نتائج فراہم کر رہی ہیں۔

اجلاس کے دوران مختلف وزارتوں نے اپنے منصوبے پیش کیے۔ وزارتِ معیشت نے خواتین کے قومی معیشت میں بڑھتے کردار پر روشنی ڈالی، جبکہ وزارتِ افرادی قوت و امارات کاری نے لچکدار اور مساوی روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی اپنی حکمت عملی بیان کی۔ سپریم کونسل برائے مادریت و طفولت نے ماؤں کے بااختیار بنانے اور بچوں کے حقوق کے تحفظ میں اپنی کامیابیاں شیئر کیں۔

سیکرٹری جنرل جینڈر بیلنس کونسل موزہ محمد السویدی نے کہا کہ یہ مباحثے اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومتی ادارے ملک بھر میں صنفی توازن کے فروغ کے لیے گہرے عزم کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ، “کونسل اپنی کوششوں کو مزید تیز کرے گی تاکہ عالمی معیار کے مطابق خواتین کے لیے مزید مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ یہ اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ متحدہ عرب امارات نے صنفی توازن کو پائیدار ترقی کی بنیاد بنا دیا ہے۔”

اجلاس کے اختتام پر اراکین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط کیا جائے گا، ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی کو فروغ دیا جائے گا، اور ملک کے جامع اور پائیدار ترقی کے وژن کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔