گوکیبرہا، جنوبی افریقہ، 12 اکتوبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے غیر ملکی تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے جی 20 ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ منسٹیریل میٹنگ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قواعد پر مبنی کھلی تجارت دنیا بھر کے ممالک کے لیے طویل المدتی ترقی کی ضامن ہے۔ اجلاس جنوبی افریقہ کے شہر گوکیبرہا میں منعقد ہوا۔
ڈاکٹر الزیودی نے اجلاس کے دوران عالمی تجارتی نظام میں شراکتی حل، سپلائی چینز کی مضبوطی و جدت، اور منصفانہ تجارتی مواقع کی فراہمی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ امارات موجودہ عالمی چیلنجوں کے حل کے لیے مشترکہ عالمی تعاون پر یقین رکھتا ہے۔
جی 20 کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق امور پر جامع تبادلہ خیال کا مرکزی فورم ہے، جس کی سفارشات نومبر میں ہونے والے جی 20 لیڈرز سمٹ کے مباحث میں شامل کی جائیں گی۔ متحدہ عرب امارات کو جنوبی افریقہ کی صدارت کے دوران خصوصی مہمان کی حیثیت سے مدعو کیا گیا تھا۔
اماراتی وفد کی قیادت کرتے ہوئے ڈاکٹر الزیودی نے پائیدار ترقی میں صنعتی شعبے کے کردار، شمولیتی نمو اور عالمی تجارتی تنظیم (WTO) میں اصلاحات سے متعلق سیشنز میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف بین الاقوامی اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ ایک متوازن عالمی تجارتی نظام تشکیل دیا جا سکے جو تمام ممالک کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرے۔
ڈاکٹر الزیودی نے کہاکہ،’’جی 20 ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ وزارتی اجلاس عالمی تجارت کو درپیش چیلنجوں کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے نہایت اہم فورم ہے۔ متحدہ عرب امارات ایسی پالیسیوں کے فروغ پر یقین رکھتا ہے جو تمام ممالک کے لیے کھلی اور قابلِ رسائی سپلائی چینز کو یقینی بنائیں اور تجارت کو ترقی و خوشحالی کا محرک بنائے رکھیں۔‘‘
اجلاس میں اقوام متحدہ کے ادارے یو این سی ٹی اے ڈی (UNCTAD) اور او ای سی ڈی (OECD) کی مشترکہ رپورٹ میں امارات کے جامع اقتصادی شراکت (CEPA) معاہدوں کو کامیاب ماڈل کے طور پر سراہا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ امارات نے بھارت، آسٹریلیا، ترکیہ اور نیوزی لینڈ کے ساتھ کیے گئے تجارتی معاہدوں کے ذریعے نہ صرف سرمایہ کاری کو فروغ دیا بلکہ قابلِ تجدید توانائی، ڈیجیٹل معیشت اور صحت عامہ جیسے کلیدی شعبوں میں ترقی کے نئے راستے کھولے ہیں۔
2021 میں سیپا پروگرام کے آغاز کے بعد سے امارات اب تک 31 تجارتی معاہدے کر چکا ہے، جو مختلف خطوں اور ترقیاتی مراحل کی معیشتوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر الزیودی نے مزید بتایا کہ امارات نے کم از کم 10 افریقی ممالک کے ساتھ تجارتی مذاکرات شروع کیے ہیں، جن میں سے کئی معاہدے حتمی مرحلے میں ہیں، جو خطے کے صنعتی اور تجارتی رابطوں کو مزید مضبوط بنائیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امارات نے دنیا بھر کے 70 ممالک میں 16.8 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں کی ہے، جو پائیدار صنعتی ترقی اور توانائی تک رسائی کے لیے اس کے عالمی عزم کا مظہر ہے۔
جی 20 ممالک مجموعی طور پر دنیا کے 85 فیصد جی ڈی پی، 75 فیصد عالمی تجارت، اور دو تہائی آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ 2025 کی پہلی ششماہی میں امارات کی غیر تیل تجارت جی 20 ممالک کے ساتھ 231 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو 2024 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 19.2 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ 2024 کے اختتام تک امارات کی غیر تیل تجارت 816.9 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی تھی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 14.6 فیصد اضافہ اور عالمی تجارتی اوسط سے پانچ گنا زیادہ تھی۔
اجلاس کے موقع پر ڈاکٹر الزیودی نے متعدد ممالک کے وزرا اور عالمی تنظیموں کے نمائندوں سے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں بھی کیں، جن میں عالمی تجارتی تنظیم (WTO) کی ڈائریکٹر جنرل نگوزی اوکونجو-ایویلا، جنوبی کوریا، جاپان، یورپی یونین، کینیڈا، انڈونیشیا اور سوئٹزرلینڈ کے وزرائے تجارت شامل تھے۔ ان ملاقاتوں میں تجارتی و سرمایہ کاری کے فروغ اور عالمی شراکت داری کے استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔