ابوظہبی، 13 اکتوبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی ہدایت پر امارات نے ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے 10 ملین امریکی ڈالر مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ اقدام یو اے ای ایڈ ایجنسی کے ذریعے شروع کیا گیا ہے، جو ایمیریٹس نیچر سوسائٹی کو ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر (WWF) کے اشتراک سے ’’کمیونٹی ریزیلینس ٹو نیچرل ڈیزاسٹرز پروگرام‘‘ کے نفاذ میں مدد فراہم کرے گا۔
یہ اعلان ابوظہبی میں جاری 2025 آئی یو سی این ورلڈ کنزرویشن کانگریس کے چوتھے روز کیا گیا۔
یہ پروگرام ڈبلیو ڈبلیو ایف اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز (IFRC) کا مشترکہ منصوبہ ہے، جس کا مقصد قدرتی وسائل پر مبنی حل کے ذریعے مقامی کمیونٹیز کو مضبوط بنانا، آفات کی تیاری میں اضافہ کرنا، اور پائیدار روزگار کے ذرائع کو فروغ دینا ہے۔
امارات کی 10 ملین ڈالر کی امداد پروگرام کے پہلے مرحلے کے لیے مختص کی گئی ہے، جس کا مقصد عوامی و نجی اداروں اور عطیہ دہندگان سے اضافی سرمایہ حاصل کر کے منصوبے کے دائرہ کار کو بڑھانا اور اسے طویل المدتی پائیداری فراہم کرنا ہے۔
چیئرمین یو اے ای ایڈ ایجنسی ڈاکٹر طارق احمد العامری نے کہا کہ یہ اقدام دنیا بھر میں انسانی اور ماحولیاتی بہتری کے لیے امارات کے بین الاقوامی تعاون کے قائدانہ کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ،’’یہ منصوبہ شیخ محمد بن زاید النہیان کے اس وژن کی عملی تعبیر ہے، جو پیشگی اقدامات اور مقامی برادریوں کی موافقتی صلاحیت بڑھانے پر زور دیتا ہے، تاکہ قدرتی آفات سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔‘‘
اس موقع پے ایمیریٹس نیچر-ڈبلیو ڈبلیو ایف کی ڈائریکٹر جنرل لیلیٰ مصطفیٰ عبداللطیف نے کہا کہ، "یہ عزم اس یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ اصل استقامت کمیونٹیز کے اندر سے پیدا ہوتی ہے۔ گزشتہ 25 برسوں سے ہم اماراتی قیادت اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر عوام کو بااختیار بنانے اور قدرت کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اب ہم یہ فلسفہ ایشیا اور بحرالکاہل میں آگے بڑھا رہے ہیں تاکہ مقامی برادریوں کے ساتھ مل کر قدرتی تحفظ اور پائیدار مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔‘‘
ڈبلیو ڈبلیو ایف انٹرنیشنل کی ڈائریکٹر جنرل کرسٹن شوئٹ کے مطابق قدرت انسانیت کی سب سے مضبوط ساتھی ہے۔ اس منصوبے کے تحت مقامی برادریاں اپنے ماحولیاتی نظام جیسے کہ مینگرووز اور پہاڑی علاقے کی بحالی میں قیادت کریں گی، جو ان کے تحفظ کے ضامن ہیں۔
جبکہ آئی ایف آر سی کی ڈپٹی سیکریٹری جنرل نینا اسٹوئیلکووِک نے کہا کہ قدرتی آفات کی شدت اور تکرار میں اضافہ ہو رہا ہے، اور زندگیوں کو محفوظ رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آفات کے رونما ہونے سے پہلے ہی تیاری اور موافقت کو مضبوط بنایا جائے۔
کمیونٹی ریزیلینس ٹو نیچرل ڈیزاسٹرز پروگرام تین بنیادی ستونوں پر مشتمل ہے جن میں پہلا ستون قدرتی حفاظتی نظام کی بحالی ہے، جس کے تحت مینگروو جنگلات اور مرجان کی چٹانوں جیسے ماحولیاتی وسائل کو ازسرِ نو بحال کیا جائے گا۔ دوسرا ستون پائیدار روزگار کے فروغ سے متعلق ہے، جس میں بالخصوص کاشتکاروں، ماہی گیروں اور چھوٹے کاروباروں کو ماحولیاتی سیاحت اور آمدنی کے متنوع ذرائع کے ذریعے سہارا دیا جائے گا۔ تیسرا ستون برادریوں کی تیاری اور آفات سے بچاؤ کے نظام کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے، جس میں ابتدائی انتباہی نظام اور خطرے میں کمی کے منصوبوں کی تیاری مقامی سطح پر کی جائے گی۔
پروگرام کا پہلا مرحلہ فلپائن، انڈونیشیا، فجی اور سولومن آئی لینڈز میں نافذ کیا جائے گا، جس کے تحت مستقبل میں خطے کی دیگر ریاستوں تک وسعت دینے کے لیے ایک قابلِ تکرار ماڈل تشکیل دیا جائے گا۔