شرم الشیخ، 13 اکتوبر، 2025 (وام)--امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے امن منصوبے کی حمایت میں متحدہ عرب امارات کے نمایاں کردار کو سراہا۔ انہوں نے یہ بات مصر میں عالمی رہنماؤں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے غزہ جنگ کے اختتام کے لیے اپنے منصوبے کا باضابطہ اعلان کیا۔
صدر ٹرمپ نے خطاب کے آغاز میں کہاکہ، “آج مشرقِ وسطیٰ میں امن کا دن ہے”۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ لمحہ ہے جس کے لیے علاقے کی عوام نے طویل عرصے سے دعا، کوشش اور قربانیاں دی ہیں۔ ان کے مطابق، گزشتہ چند ہفتوں میں ایسے کام انجام پائے جو ماضی میں ناقابلِ تصور سمجھے جاتے تھے۔
انہوں نے کہاکہ، “آج ہم نے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے ساتھ لاکھوں لوگوں کی دعائیں قبول ہو گئی ہیں۔ ایک نیا اور خوبصورت دن طلوع ہو رہا ہے — اور اب تعمیرِ نو کا عمل شروع ہوتا ہے۔”
صدر ٹرمپ نے مزید کہاکہ، “یہ معاہدہ صرف غزہ میں جنگ کے خاتمے کا اعلان نہیں، بلکہ خدا کے فضل سے مشرقِ وسطیٰ کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ آج سے ہم ایک ایسے خطے کی بنیاد رکھ رہے ہیں جو مضبوط، مستحکم، خوشحال اور دہشت گردی کے راستے کو ہمیشہ کے لیے مسترد کرنے والا ہو گا۔”
انہوں نے اعلان کیا کہ،'غزہ کی جنگ ختم ہو چکی ہے' اور اس وقت انسانی امداد کے سیکڑوں ٹرک کھانے پینے کی اشیا، ادویات اور ضروری سامان کے ساتھ علاقے میں داخل ہو رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں عرب اور اسلامی ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے امن معاہدے کی حمایت کی۔ انہوں نے خاص طور پر متحدہ عرب امارات، مصر، ترکیہ اور قطر کے کردار کو سراہا۔
انہوں نے کہاکہ، “میں عرب جمہوریہ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے نہایت فراخ دلی اور گرمجوشی کے ساتھ اس اجلاس کی میزبانی کی اور امن کے قیام میں قائدانہ کردار ادا کیا۔”