متحدہ عرب امارات کی قومی سائبر سیکیورٹی حکمتِ عملی جدید ترین مصنوعی ذہانت کے تقاضوں سے ہم آہنگ: ڈاکٹر محمد الکویتی

دبئی، 14 اکتوبر 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کی حکومت کے سربراہ برائے سائبر سیکیورٹی کونسل ڈاکٹر محمد الکویتی نے کہا ہے کہ امارات کی قومی سائبر سیکیورٹی حکمتِ عملی ایک جامع لائحہ عمل پر مبنی ہے جو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ ان کے مطابق، نئی قومی پالیسیوں اور معیارات نے مصنوعی ذہانت پر مبنی سرکاری ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے ایک واضح روڈ میپ فراہم کیا ہے۔

ڈاکٹر الکویتی نے یہ بات عالمی مستقبل کونسلز اور سائبر سیکیورٹی کی سالانہ میٹنگز کے موقع پر امارات نیوز ایجنسی (وام) سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، جو آج دبئی میں شروع ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی میں امارات کی مسلسل سرمایہ کاری ملک کے جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے اور نئے چیلنجوں سے نمٹنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (ITU) کے گلوبل AI اِن سائبر سیکیورٹی انڈیکس میں متحدہ عرب امارات تمام زمروں میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر رہا۔ انہوں نے اس کامیابی کا سہرا ملک کے دوراندیش وژن، جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور قومی صلاحیتوں کی تربیت کے ساتھ بین الاقوامی شراکت داریوں کو دیا۔

ڈاکٹر الکویتی نے انکشاف کیا کہ امارات نے حال ہی میں کئی سائبر حملوں کو ناکام بنایا جو اہم تنصیبات کو نشانہ بنا رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اعلیٰ صلاحیت کے حامل قومی نظام اور ماہر ٹیموں نے ان خطرات سے کامیابی کے ساتھ نمٹا۔

انہوں نے کہا کہ امارات روزانہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ سائبر حملوں کا سامنا کرتا ہے، جب کہ عالمی یا علاقائی کشیدگی کے دوران یہ تعداد تین لاکھ سے تجاوز کر جاتی ہے۔ ان کے مطابق تمام واقعات عالمی معیار کے مطابق ایک منظم قومی فریم ورک کے تحت نمٹائے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر الکویتی نے مصنوعی ذہانت کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی روش ڈیٹا کے تحفظ کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور سائبر حملوں کے لیے راہ ہموار کر سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے ڈیپ فیکس اور آن لائن گمراہ کن مواد جیسے نئے خطرات پیدا کیے ہیں، جنہیں سائبر اور معلوماتی جنگوں میں بڑھتے ہوئے استعمال کیا جا رہا ہے۔