دبئی، 15 اکتوبر، 2025 (وام)--علی بابا کلاؤڈ انٹرنیشنل کے نائب صدر اور مشرقِ وسطیٰ، ترکیہ اور وسطی ایشیا کے جنرل منیجر ایرک وان کے مطابق متحدہ عرب امارات کی اقتصادی اور قانون سازی کی کشادگی کلاؤڈ انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کے لیے ایک معاون ماحول پیدا کرتی ہے۔
جائٹیکس گلوبل 2025 کے دوران امارات نیوز ایجنسی (وام) سے گفتگو کرتے ہوئے ایرک وان نے کہا کہ یو اے ای کی متنوع منڈی بڑی سطح پر کلاؤڈ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے پرکشش مقام بن چکی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ملک کی اقتصادی اور قانون سازی کی کشادگی کی پالیسی نے کلاؤڈ انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں سرمایہ کاری کے لیے ایک سہولت بخش ماحول پیدا کیا ہے۔
ایرک وان نے مزید کہا کہ یو اے ای کی واضح اور شفاف پالیسیز اختراع اور سرمایہ کاری کو فروغ دیتی ہیں، جبکہ ملک کا جغرافیائی محلِ وقوع اسے مشرق و مغرب کو جوڑنے والے عالمی تجارتی مرکز کے طور پر نمایاں کرتا ہے۔
ان کے مطابق، یو اے ای اور خطہ مجموعی طور پر کلاؤڈ سروسز اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی منڈیوں میں سے ایک ہیں۔
ایرک وان نے وضاحت کی کہ علی بابا کلاؤڈ اس خطے کی منڈی کو اپنی عالمی سرمایہ کاری اور توسیعی منصوبوں کا بنیادی ستون سمجھتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ، "یو اے ای اور خطے کی اہمیت ہمیں مسلسل سرمایہ کاری اور مقامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون پر آمادہ کرتی ہے۔ ہمارا مقصد مقامی ٹیلنٹ کو فروغ دینا اور مختلف شعبوں کو علی بابا کلاؤڈ کے انفراسٹرکچر، مصنوعات اور AI ٹیکنالوجیز سے مستفید کرنا ہے۔"
ایرک وان نے مزید بتایا کہ کمپنی کا دبئی میں دوسرا ڈیٹا سینٹر قائم کرنا اور مقامی شراکت داروں کے ساتھ متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جو علی بابا کلاؤڈ کے خطے کے ساتھ دیرپا عزم کو ظاہر کرتا ہے۔