محمد بن راشد گلوبل انیشیٹیوز کی جانب سے چاڈ میں سوڈانی پناہ گزینوں کے لیے اہم انسانی منصوبے مکمل

دبئی، 15 اکتوبر، 2025 (وام)--محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشیٹیوز نے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزینوں کے تعاون سے چاڈ میں سوڈانی پناہ گزینوں کے لیے متعدد اہم انسانی منصوبوں کی تکمیل کا اعلان کیا ہے۔

ان منصوبوں کا مقصد صاف پانی اور طبی سہولیات کی فراہمی، صحتِ عامہ کے ڈھانچے کی بہتری، اور پناہ گزینوں کے ساتھ ساتھ میزبان برادری کی زندگی کے معیار کو بلند کرنا ہے۔

محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشیٹیوز کی معاونت سے اقوامِ متحدہ کا ادارہ برائے پناہ گزین نے ان منصوبوں کو مکمل کیا، جن کے ذریعے ایک لاکھ اکتیس ہزار سے زائد سوڈانی پناہ گزینوں اور مقامی شہریوں کو سہولیات فراہم کی گئیں۔

ان منصوبوں میں مشرقی چاڈ کے پناہ گزین کیمپوں میں دس کنویں کھودنا شامل تھا، جن سے روزانہ نو سو پچھتر مکعب میٹر پینے کا پانی فراہم کیا جا سکتا ہے۔ اس سہولت سے پینسٹھ ہزار افراد مستفید ہو رہے ہیں۔

اس کے علاوہ، آرکوم پناہ گزین بستی میں ایک جدید طبی مرکز قائم کیا گیا ہے، جس میں تیرہ کمرے، دو انتظار گاہیں، شمسی توانائی کا نظام، فضلہ تلف کرنے کا یونٹ، اور طبی آلات و ادویات شامل ہیں۔ یہ کلینک چھیاسٹھ ہزار سے زائد افراد جن میں چالیس ہزار سوڈانی پناہ گزین اور چھبیس ہزار میزبان کمیونٹی کے افراد شامل ہیں جن کو صحت کی خدمات فراہم کرے گا۔

محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشیٹیوز کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل سعید العیتر نے کہا کہ چاڈ میں سوڈانی پناہ گزینوں کے لیے ان منصوبوں کی تکمیل، فاؤنڈیشن کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ ضرورت مندوں کی مدد کے لیے ہمیشہ پیش پیش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزینوں کے ساتھ شراکت داری نے پناہ گزینوں اور میزبان برادریوں کو بہتر زندگی گزارنے کے قابل بنایا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزینوں کے خلیجی ممالک کے نمائندہ ڈاکٹر خالد خلیفہ نے کہا کہ چاڈ میں ان مربوط منصوبوں کی بدولت سوڈانی پناہ گزین اپنی زندگی دوبارہ تعمیر کر رہے ہیں اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کے قابل بن رہے ہیں۔ انہوں نے محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشیٹیوز کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ امداد ایسے وقت میں ملی جب عالمی ادارے فنڈز کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔

محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشیٹیوز نے 2021 سے اب تک اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزینوں کے ساتھ اپنی شراکت داری کو وسعت دی ہے اور وہ اس ادارے کے اہم عطیہ دہندگان میں شامل ہے۔ 2024 کے اختتام تک، فاؤنڈیشن نے 136 ملین درہم (37 ملین امریکی ڈالر) فراہم کیے، جس سے سات لاکھ پچاس ہزار پناہ گزینوں، بے گھر افراد اور میزبان برادریوں کو فائدہ پہنچا ہے۔

جنوری 2025 میں فاؤنڈیشن نے مزید 36.7 ملین درہم (10 ملین ڈالر) کی امداد کا اعلان کیا، جس سے 2021 کے بعد سے کل امداد 172.7 ملین درہم (تقریباً 47 ملین ڈالر) ہو گئی۔

محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشیٹیوز، جو خطے کی سب سے بڑی انسانی، فلاحی اور سماجی تنظیم ہے نے 2024 میں 2.2 بلین درہم خرچ کیے، جس کے ذریعے 118 ممالک کے 149 ملین افراد تک مدد پہنچائی گئی۔
اس کی سرگرمیاں پانچ بنیادی شعبوں پر مشتمل ہیں جن میں انسانی و ریلیف امداد، صحت و بیماریوں کا انسداد، تعلیم اور علم کی ترویج، اختراع و کاروباری ترقی اور معاشرتی بہبود و بااختیاری جیسے شعبے شامل ہیں۔

2015 میں قائم ہونے والی یہ فاؤنڈیشن، متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کی سرپرستی میں چلنے والے 30 سے زائد پروگراموں اور اداروں کا مجموعہ ہے۔ اس کا مقصد امید، برداشت، تعلیم، اور انسانی خدمت کے فروغ کے ذریعے دنیا بھر میں پائیدار ترقی اور انسانی وقار کو مضبوط بنانا ہے۔